یومِ فضائیہ؛ سات ستمبر 1965 کا فضائی معرکہ؛ دشمن کے پانچ جہاز کیسے تباہ ہوئے ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وسیم عظمت) سات ستمبر کی وہ سہ پہر ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں میں کبھی نہ مٹنے والے نشان چھوڑ گئی جنہوں نے سرگودھا کی فضا میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کو دشمن کے ٹیکنیکلی برتر طیاروں پر پلٹ پلٹ کر جھپٹتے اور ان برتر طیاروں کے پرخچے اڑاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
اعلانیہ جنگ کے آغاز کے بعد پڑوسی دشمن نے ابتدا میں ہی پٹھانکوٹ ائیر بیس کی بربادی اور وہاں موجود 13 فائیٹر طیاروں کی کھڑے کھڑے ہی تباہ ہو جانے سے لگنے والے کاری زخموں کا بدلہ لینے کے لئے پاک فضائیہ کے دِل سرگودھا پر حملہ کر کے بدلہ لینے کی کوشش کی تھی۔
6 ستمبر 1965ء کو جب بھارتی فوج نے لاہور پر حملہ کیا، تو اسی شام پاک فضائیہ کے نمبر 19 سکوڈرن کے سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کے اہم ترین فرنٹ لائن ایئر بیس پٹھانکوٹ پر ایک تاریخی اور انتہائی کامیاب ائیر سٹرائیک کی تھی۔ اس حملے میں پٹھان کوٹ ائیر بیس میں پاکستان پر حملوں کی غرض سے تیار کر کے کھڑے کئے گئےبھارتی ائیر فورس کے 13 جنگی طیارے مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے، جن میں سوویت یونین کے فراہم کردہ جدید ترین مگ-21 (MiG-21)، میسٹیر (Mystère IV) اور سی-119 ٹرانسپورٹ طیارے شامل تھے۔ شاہینوں کے مختصر دورانیہ کے اس ماہرانہ حملے سے یہ سٹریٹیجک ائیر بیس عملاً ناکارہ جہازوں کا قبرستان بن گیا تھا۔
اگلے روز سات ستمبر کی سہ پہر دشمن نے پٹھان کوٹ کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش میں پاک فضائیہ کے دل سرگودھا ائیر بیس پر حملہ کرنے کی جسارت کی تو یہ جسارت ائیر فورسز کی باہمی جنگوں کی تاریخ کی بدترین حماقت بن گئی۔
اب اس دن کی یاد میں پاکستانی قوم ہر سال سات ستمبر کو یومِ فضائیہ مناتی ہے۔ اس روز سرگودھا میں مصحف ائیر بیس پر ایک شاندار پبلک نمائش ہوتی ہے۔ ائیر بیس کو عوام کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ ائیر بیس پر موجود فائیٹر جیٹس اور ان جیٹ طیاروں کو اڑانے والے پائلٹوں کو قریب سے دیکھنے کے لئے وہاں جاتے ہیں۔ سات سمبر کو سرگودھا کے ائیر بیس پر عملاً عید کا دن ہوتا ہے۔
اس حملے کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم (محمد محمود عالم) کی تاریخی ڈوگ فائیٹ منصہِ شہود پر آئی؛ دشمن کے طیاروں کے ریڈار پر آتے ہی پاک فضائیہ کی کمانڈ نے سرگودھا ائیر بیس کے دفاع کے لئے اپنے شاہینوں کو پاک فضا میں روانہ کیا۔ سب کچھ برق سے کچھ زیادہ رفتار سے ہوا اور دشمن کے طیاروں کے سرگودھا ائیر بیس تک پہنچنے سے پہلے فضا میں ایک سیسہ پلائی دیوار تن چکی تھی۔ پٹھانکوٹ کی ہزیمت کے انتقام کی آگ میں جلتے دشمن نے حماقت کا اندازہ کرنے میں کوتاہی کی اور شاہینوں نے بطاہر برتر طیاروں کو واپس بھاگنے کی مہلت نہیں دی۔
سرگودھا شہر سے کچھ دور فضا میں شاہینوں نے دشمن کے کئی طیاروں کے سکواڈرن کا تعاقب شروع کیا اور فضائی جنگوں کی ہسٹری کا ایک شاندار چیپٹر تحریر ہونے کا آغاز ہوا۔
تیس سیکنڈ میں پانچ فائٹر طیارے زمین بوس!
یہ تاریخی ڈوگ فائیٹ 1965ء کی پاک-بھارت جنگ کے دوران 7 ستمبر کی سہ پہر کو ہوئی۔
بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے اہم ترین ایئر بیس پی اے ایف بیس سرگودھا پر حملہ کیا تھا، جس کے دفاع میں یہ چند منٹوں میں تمام ہو جانے والی ڈوگ فائیٹ سرگودھا کے آسمان پر لڑی گئی یہ ڈوگ فائیٹ ایک عالمی ریکارڈ بن گئی۔
اس ڈوگ فائیٹ کے دوران سرفروش پائلٹوں کے گیارھویں سکواڈرن کے لیڈر ایم ایم عالم نے اپنے ایف-86 سیبر (F-86 Sabre) طیارے اور اپنے ساتھ صرف ایک ونگ مین فلائٹ لیفٹیننٹ مسعود اختر کے ایف 86 سیبر فائٹر کے ساتھ دشمن کے سکواڈرن کا راستہ روکا اور تنہا ایم ایم عالم نے برتر طیاروں کو نشانہ بنا کر زمین پر گرانے کا محئیر العقول مشن مکمل کیا۔
انہوں نے 5 ہنٹر جنگی طیاروں کو ایک منٹ سے بھی کم وقت (محض 30 سیکنڈز) میں مار گرایا، جو کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ا
ایم ایم عالم کا بنیادی ہتھیار کیا تھا؟
پورے عالم کو ورطہ حیرت میں ڈالنے والاشاہین ایم ایم عالم مشین گن اور حدت کا پیچھا کرنے والے میزائل دونوں ہتھیاروں کے ساتھ بیک وقت حملے کر رہا تھا۔ ان کا بنیادی اور زیادہ کارگر ہتھیار مشین گن تھی۔ انہوں نے دشمن کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی اس سکواڈرن پر جھپٹ کر انتہائی قریبی فاصلہ حاصل کر لیا تھا۔ یہ انتہائی قریبی فاصلہ خود ان کے لئے بھی خطرہ تھا لیکن سرفروش سکواڈرن کے رہنما کو خود کی پرواہ ہی کہاں تھی۔ انہوں نے دشمن سکواڈرن پر پہلا وار مشین گن سے کیا اور آخری برباد کن وار میزائل سے کیا۔
جن ہزاروں عینی شاہدوں نے ان لمحات کو دیکھا وہ ہمیشہ خود کو خوش قسمت تصور کرتے رہے، باقی شہریوں کے متوجہ ہونے تک آسمان پر کئی مقامات سے اٹھتے ہوئے دھویں کے مرغولے ہی دیکھنے کے لئے باقی تھے یا پاکستان ائیر فورس کے دو فاتح فائٹر۔
ایم ایم عالم نے اس یادگار ڈوگ فائیٹ میں پہلا طیارہ حدت کا پیچھا کرنے والےمیزائل ( AIM-9 سائیڈ وائنڈر (Sidewinder) ہیٹ سیکنگ میزائل) سے نشانہ بنا کر گرایا۔ جب انہوں نے بھارتی ہنٹر طیاروں کا پیچھا شروع کیا دشمن پائلٹ مکمل خوفزدہ تھے۔ پہلے طیارے کے میزائل سے ہٹ ہوتے ہی باقی طیاروں نے شارپ ٹرن لئے اور زمین کے انتہائی قریب نیچی پرواز کر کے مزید میزائلوں سے بچنے کی اچھی کوشش کی لیکن سامنا جس شاہین سے تھا وہ پچاس کیلیبر کی مشین گن کو مینوئلی اتنا پرفیکٹ استعمال کر رہا تھا کہ آج کے جدید ترین سسٹمز استعمال کرنے والے پائلٹ بھی ان کی ٖفضا میں نشانہ بازی Airial Gunnery کی مہارت کو سلام کرنے پر مجبور پاتے ہیں۔

پہلا طیارہ ہِٹ ہو جانے کے بعد سکواڈرن لیڈر عالم فرار ہونے کی طرف مائل خوفزدہ دشمن کے پانچ طیاروں پر ویسے ہی جھپٹے جیسے شاہین اپنے شکاروں پر جھپٹا کرتے ہیں۔ صرف تیس سیکنڈ کے دورانیہ میں ان کی پچاس کیلیبر کی مشین گنوں سے نکلنے والی گولیوں نے پاک فضا میں آنے کی حماقت کرنے والے چار طیاروں کو چھلنی کر دیا تھا۔
پہلے طیارے کے نشانہ بننے کے فوراً بعد باقی پانچ بھارتی طیارے دفاعی پوزیشن میں مڑے، تو ایم ایم عالم نے اپنے طیارے میں نصب 6 عدد .50 کیلیبر (12.7mm) براؤننگ مشین گنز کا مشاقانہ استعمال کیا۔ انہوں نے محض تیس سیکنڈز کے گن برسٹ (Gun Bursts) سے یکے بعد دیگرے دشمن کے چار طیاروں کو نشانہ بنایا۔
بعد میں فضائی جنگوں کے غیر ملکی ماہرین نے اس معرکہ کو بنیادی طور پر "بہترین فضائی نشانے بازی" (Aerial Gunnery) کا شاہکار مانا کیونکہ زیادہ تر شکار مشین گن کے ذریعے کیے گئے۔
مار گرائے جانے والی بھارتی طیاروں کے پائلٹ
مار گرائے جانے والے بھارتی ائیر فورس کے سکواڈرن نمبر 7 کے پائلٹس کے پاس ہنٹر طیارے تھے۔ اس سہ پہر مار گرائے جانے والے اور بچ نکلنے والے طیاروں کے پائلٹس میں درج ذیل نام شامل ہیں:
سکواڈرن لیڈر اجیت کمار چودھری: یہ ایم ایم عالم کا پہلا شکار بنے جن کے طیارے کو میزائل نے ہِٹ کیا تھا۔ سکواڈرن لیڈر اجیت کمار چودھری ایک ماہر پائلٹ تھے لیکن اچانک اور انتہائی برق رفتار سے ہونے والے حملے میں طیارہ تباہ ہونے کی وجہ سے ایجیکٹ نہیں کر سکے اور طیارے کے ساتھ نیچے گرے، وہ شدید زخموں سے جانبر نہ ہو سکے۔
فلائٹ لیفٹیننٹ وی ایس سکند: ایم ایم عالم نے جب ان کے طیارے کو مشین گنز سے نشانہ بنایا تو انہوں نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی اور انہیں پاکستانی حدود میں گرفتار کر کے جنگی قیدی (POW) بنا لیا گیا۔
فلائٹ لیفٹیننٹ جی ایس آہلووالیا: ان کا طیارہ بھی گن برسٹ کا شکار ہوا، انہوں نے بھی بروقت ایجیکٹ کر لیا اور ان کی جان بچ گئی۔ بعد میں انہیں بھی زمین پر موجود دیہاتیوں نے گرفتار کر کے پاک فوج کے حوالے کر دیا اور انہیں جنگی قیدی بنا لیا گیا۔
فلائٹ لیفٹیننٹ بھگواد دیو بندوپادھیائے (بی ڈی بینرجی): ان کا طیارہ بھی ایم ایم عالم کی گولیوں کا نشانہ بنا، تاہم وہ ڈیمیج ہو چکے طیارے کے گرنے سے پہلے بھارتی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور گرفتاری سے بچ گئے۔
فلائٹ لیفٹیننٹ اے آر گاندھی: یہ اس فارمیشن کے وہ پائلٹ تھے جن کے طیارے کو ایم ایم عالم نے گولیوں سے نشانہ بنایا تو وہ بھی شدید زخمی ہو گئے۔ فلائٹ لیفٹیننٹ اے آر گاندھی نے زخمی حالت میں ایجیکٹ کیا اور بچ گئے۔
ایئر کنٹرول روم اور ریڈار اسکرین کے عینی شاہدین کے تاثرات
اس معرکے کو زمین پر رہ کر لائیو (Live) دیکھنے والے ہزاروں لوگ سرگودھا کے دیہاتی مرد، عورتیں تھے لیکن اسے پیشہ ورانہ انداز سے مشاہدہ کرنے والے سب سے بڑے عینی شاہد پاک فضائیہ کے ریڈار کنٹرولرز تھے، جو ساہیوال (سرگودھا کے قریب) کے ریڈار اسٹیشن پر موجود تھے۔ ان کے تاثرات اور آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں تھا:
ابتدائی حیرت اور تناؤ: ریڈار اسکرین پر ڈیوٹی دینے والے فلائٹ لیفٹیننٹ فاروق عمر (جو بعد میں ایئر مارشل بنے) اور ان کی ٹیم نے دیکھا کہ ریڈار کی سکرین پر دشمن کے 5 سے 6 طیاروں کے جھمگٹے کے سامنے پاکستان کے صرف 2 ڈاٹس (ایم ایم عالم اور ان کے ونگ مین) موجود ہیں۔ کنٹرول روم میں شدید تناؤ کا ماحول تھا کیونکہ مقابلہ 1 اور 3 (دو اور چھ) کا تھا۔
نقطوں کا غائب ہونا: جب ایم ایم عالم نے دشمن پر حملہ کیا اور انتہائی نچلی پرواز ( Low Altitude Flight) شروع کی، تو ریڈار کی سکرین پر پائلٹس اور دشمن کے طیاروں کے سگنلز (ڈاٹس) یکدم غائب ہو گئے۔ نچلی پرواز کی وجہ سے ریڈار انہیں پکڑ نہیں پا رہا تھا، جس پر کنٹرول روم میں موجود افسران کے سانس رک گئے, وہ شدت سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ ان کے ساتھی پائلتس کے ساتھ کہیں کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا۔
ریڈیو پر ایم ایم عالم کی آواز اور خوشی کی لہر: چند ہی سیکنڈ کے کیاؤس کے بعد ریڈار روم کے وائرلیس سیٹ پر سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کی پرسکون اور پرعزم آواز گونجی: "فائیو ہنٹرز ڈاؤن، آئی ری پیٹ، فائیو ہنٹرز ڈاؤن!" (پانچ ہنٹر طیارے گرائے جا چکے ہیں، میں دہرا رہا ہوں، پانچ ہنٹر مار گرائے ہیں!)۔
ناقابل یقین کاوش: ریڈار کنٹرولرز بتاتے ہیں کہ وہ سکرین پر وقت نوٹ کر رہے تھے اور یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ کنٹرول روم میں موجود ہر شخص دنگ رہ گیا۔
پہلے تو کسی کو یقین نہیں آیا کہ کوئی پائلٹ سیکنڈز کے اندر دشمن کی خود سے بہت برتر فارمیشن کو یوں تباہ کر سکتا ہے، لیکن جب ایم ایم عالم اور فلائٹ لیفٹیننٹ مسعود اختر بحفاظت بیس پر اترے اور زمین سے طیاروں کے ملبے کی تصدیق ہوئی، تو کنٹرول روم "اللہ اکبر" کے نعروں سے گونج اٹھا اور افسران نے خوشی سے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔
سرگودھا کے دیہاتی خود شاہین بن گئے
جب فضا میں ڈوگ فائیٹ شروع ہوئی تو جو مرد و خواتین اتفاقاً برق رفتاری سے اڑتے جنگی جہازوں کے غول اور ان پر جھپٹتے دو شاہین طیاروں کو دیکھ پائے۔ ان سب طیاروں کی بہت اونچی آوازیں بعد میں سب کو متوجہ کر چکی تھیں۔ کچھ نے ایم ایم عالم کے پہلے میزائل کو اپنے ٹارگٹ پر لگتے اور بھارتی طیارے کو نیچے کی طرف جاتے دیکھا، کچھ نے بعد میں چار طیاروں کو گولیوں کا نشانہ بنتے اور اس سے پہلے بچنے کی آخری کوشش کرتے ہوئے فضا میں پینترے بدلتے دیکھا۔
پھر ہزاروں لوگوں نے دشمن کے طیاروں کو فضا میں ڈولتے، ڈگمگاتے، نیچے کی طرف جاتے دیکھا اور بعض پائلٹوں کو جہازوں سے نکل کر پیراشوٹ کھولتے دیکھا۔
اس سہ پہر سرگودھا شہر سے میلوں دوری پر واقعی کئی دیہات میں زمین پر جنگ کے میدان سے زیادہ جوش تھا، ہزاروں لوگ خوشی سے نعرے لگاتے گرنے والے طیاروں کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔ ہر طرف فضا میں پاک فضائیہ زندہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے: سات ستمبر 1965 سے سات مئی 2025 تک پاک فضائیہ نے اپنی برتری کا لوہا منوایا ، وزیراعظم شہباز شریف
سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم تو بہرحال لیجنڈری فائیٹر قرار پائے ہی؛ سرگودھا کے دیہاتوں میں وہ سب لوگ بھی لیجنڈ بن گئے جنہوں نے یہ معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ جب تک رہے، اس معرکے کا حال بعد کی جنریشنوں کے لوگوں کو فخر کے ساتھ بتاتے رہے۔
ایم ایم عالم
فضائی سرفروش ایم ایم عالم نے اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھائے جو رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔ ایم ایم عالم نے 30سکینڈ میں 4اورایک منٹ سے بھی کم عرصہ میں5 بھارتی ہنٹر گرا کر بین الاقوامی فضائی تاریخ کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا جو آج تک کوئی دوسرا پائلٹ نہیں توڑ سکا۔
اس جنگ میں انھوں نے مجموعی طور پر 9 طیارے مار گرائے اور 2 کو نقصان پہنچایا۔ یہ ایم ایم عالم جیسے سرفروش ہی تھے جن کی وجہ سے 17دنوں کے اس جنگ میں پی اے ایف نے مجموعی طور پر 35طیاروں کو فضائی اور 43کو زمین پر تباہ کیا اور 32طیاروں کو طیارہ شکن گنوں نے نشانہ بنایا۔ اس طرح مجمو عی طورپر بھارت کے 110طیارے تباہ ہو ئے اور پاکستان کے صرف 19 طیارے اپنے ملک پر قربان ہوئے۔

محمد محمود عالم 6جولائی 1935ء میں بھارتی شہر کولکتہ میں پیدا ہوئے۔ عظیم فضائی سرفروش کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے تھا۔ ۔ ایم ایم عالم نے کولکتہ میں مسلمانوں کے علاقہ میں قائم ایک اردو میڈیم برٹش اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔
قیام پاکستان کے بعد ان کے اہل خانہ نے بھارت سے ہجرت کر کے کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔ ان کے والد سرکاری ملازم تھے۔ اپنے والد کی ملازمت کے سبب ایم ایم عالم نے ڈھاکہ منتقل ہونے کے بعد وہاں کے مشہور ادارے نیو گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ ابھی فرسٹ ایئر سائنس کے طالبعلم تھے کہ ایئر فورس میں شامل ہونے اور جی ڈی پائلٹ پائلٹ بننے کے لئے تعلیم ترک کر کے پاک فضائیہ میں ملازمت کر لی۔
ایم ایم عالم نے اکتوبر 1953ء میں پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کر لیا تھا۔ 30سال پاک فضائیہ میں خدمات سرانجام دینے والے عالمی شہرت یافتہ ہواباز کو 1982ء میں ریٹائر کر دیا گیا۔
ایم ایم عالم فائٹر لیڈر سکول میں انسٹرکٹر،3 اسکوارڈنز کے کمانڈنگ آفیسر، ڈائریکٹر آف آپریشنز ریسرچ اور فضائی ہیڈکوارٹر میں بطور اسسٹنٹ چیف آف ائیر سٹاف فرائض سرانجام دیتے رہے۔ انھوں نے حکومت شام کی درخواست پر5 سال شامی ایئر فورس کی تربیت کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔
