آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے ایرانی شرائط امریکہ نے مسترد کر دیں

Sep 26, 2026 | 17:26:PM
 آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے ایرانی شرائط امریکہ نے مسترد کر دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)آج ایران کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے نئی تجاویز کی خبر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دنیا کو بتائی اور اس کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعلق یہ خبریں آئیں کہ ایران کی یہ شرائط امریکہ کو منظور نہیں ہیں۔

 وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تین شرائط کو مان کر سات دن میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کی آج شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اپنے مشیروں کو بتایا کہ نومبر میں مڈ ٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بمباری دوبارہ شروع کریں گے، کیوں کہ انھیں یقین نہیں کہ تہران ان کے مطالبات مانے گا۔

عباس عراقچی نے آج ہی یہ انکشاف کیا تھا کہ ایران نے تین شرائط پر مبنی تجویز قطر کے ذریعہ امریکہ کو بھیجی ہے۔ ایران کی تین شرائط کے ساتھ آنے والی اس تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا  ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل کی خریداری پر عائد سخت پابندیاں نرم کرنے کے ساتھ لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ کو بھی بند کروانے سے مشروط ہے۔ عراقچی نے بتایا کہ امریکہ نے تینوں شرطوں پر عمل کر لیا تو اس کے  ساتھ ہی ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔ عراقچی نے کہا تھا کہ امریکہ نے اس تجویز کو منطور  کر لیا تو تین شرطوں پر عمل کرنے میں تین چار دن لگین اور اور چھٹے دن تک ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔

 وال سٹریٹ جرنل کی آج سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا  گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی تجویز کو ڈسکس کیا اور مسترد کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ  ایران کی شرائط کو ماننے کو مناسب نہیں سمجھتے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ نومبر میں ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ناکہ بندی ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جنگ بندی کیلئے تین شرائط پیش کر دیں 

نیوز ایجنسی روئٹرز نے آج اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایران ہفتے کے روز امریکی حکومت کے باضابطہ جواب کا منتظر تھا، جب وال اسٹریٹ جرنل نے یہ رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں شامل تین شرطوں پر عمل کرنے کی صورت میں ایران نے  آبنائے ہرمز  کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی تھی۔

اس دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں نیا دفاعی نظام تعینات کردیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز  کو کھولنے کے معاملے پر اپنے سعودی حریفوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔

عباس عراقچی نے جمعہ کے روز  اقوام متحدہ میں صحافیوں کو یہ بتایا کہ  معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روز  کی کاؤنٹ ڈاؤن اس روز شروع ہو جائے گی جس روز امریکہ ہماریتجویز کو منطور کر لے گا۔ ایران کی اس تجویز کا مرکزی نکتہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس بحری ناکہ بندی سے ایران کو شدید نقصانات ہو رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: چیف الیکشن کمشنر  گیانیش کمار کی گرفتاری کے لئے بھارت بھر میں احتجاج، جلوسوں کی الیکشن کمیشن دفاتر پر یلغار 

عراقچی نے کہا، ’’اگر امریکی جانب سے معاہدے تک پہنچنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدگی موجود ہے تو اب سب کچھ تیار ہے۔‘‘ عراقچی کے مطابق اگر امریکہ اس پر رضامند ہو جاتا ہے تو جنگ میں شامل فریق ’’باہمی طور پر طے شدہ معاملات‘‘ پر   وسیع تر مذاکرات کا آغاز کر سکتے ہیں۔

ان معاملات میں ممکنہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے۔

ایران کا نیوکلئیر پروگرام دراصل فروری کے آخری روز ایران پر حملے کی بنیاد بنا تھا۔  جب پاکستان کی مدد سے امریکہ ایران جنگ بندی ہوئی تب بھی یہ طے ہوا تھا کہ ابتدائی فوری نوعیت کے کام مکمل کرنے کے بعد دونوں ملک ایران کے نیوکلئیر پروگرام پر مزاکرات کا آغاز کرین گے۔ لیکن اس مفاہمت میں آئیڈینٹیفائی کئے گئے ابتدائی اقداامت پر ہی کبھی عملدرآمد نہیں ہو سکا اور نیوکلئیر پروگرام کا تنازعہ جیسا تھا ویسا ہی ہے۔ اب آبنائے ہرمز کی بندش کا ایشو سنٹر سٹیج پر ہے اور ی اصل تنازعہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  گیانیش کمار نے  13 کروڑ ووٹ کیسے خارج کئے، الیکشن کمیشن کے اندر کیا  جنگ ہوئی؟ بھارت میں میڈیا رپورٹ سے بھونچال آ گیا 

 صدر ٹرمپ بار بار یہ بتا چکے ہیں کہ تہران کبھی جوہری بم حاصل نہیں کرے گا، جب کہ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے میں کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرے گا، خواہ امریکہ اس کے امن معاہدے کو قبول ہی کیوں نہ کر لے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران اپنے حقوق، جن میں یورینیم کی افزودگی اور انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے سے انکار کا حق بھی شامل ہے، پر کوئی رعایت نہیں دے گا۔

ایران کی بظاہر بری طرح ڈیمیج ہو چکی نیوکلئیر تنصیبات کے بارے مین یقین ہے کہ ان میں سے ایک کے گوداموں میں 972 پاؤنڈ وہ یورینئیم بھی پڑی ہے جسے ساٹھ فیصد انریچ کیا جا چکا ہے۔ اس یورینیم کو بم گریڈ مواد میں تبدیل کرنے کے لئے کچھ مزید ہفتوں  سے مہینوں تک کی انرچمنٹ درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے : ہماری پروازیں بند ہوئیں تو خطے میں کوئی جہاز نہیں اڑنے دیں گے: ایران کا انتباہ