میڈیکل بورڈ کی بنیاد پر ملزم کو بالغ قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

Sep 26, 2026 | 15:11:PM
میڈیکل بورڈ کی بنیاد پر ملزم کو بالغ قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نےمیڈیکل بورڈ کی بنیاد پر ملزم کو بالغ قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا۔
جسٹس امیر عجم ملک نے تحریری فیصلہ جاری کیا،گیارہ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق یونین کونسل کے غیرچیلنج شدہ برتھ سرٹیفکیٹ کی موجودگی میں میڈیکل بورڈ کا بون ٹیسٹ لازمی نہیں،ہائیکورٹ نے ملزم کی کمسنی سے متعلق ٹرائل کورٹ کو قانون کے مطابق دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
ماتحت عدالت نے 13 سالہ ملزم علی شیر کو میڈیکل رپورٹ پر 20 سال کا قرار دے کر درخواست مسترد کی تھی،عدالتی ابزرویشن کے مطابق ملزم کے برتھ سرٹیفکیٹ کی صداقت کو مدعی مقدمہ نے کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا تھا،پولیس چالان کی ضمیمہ سلپ میں بھی ملزم کی عمر 15/16 سال درج تھی،اگر تاریخ پیدائش کی دستاویزات میں تضاد نہ ہو تو محض اعتراض پر میڈیکل بورڈ بھیجنا قانون کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس پرفیصلہ عوامی ریفرنڈم سے ہوگا
 فیصلے کے مطابق ٹرائل کورٹ جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018ء کے تحت فریقین کو سن کر نیا آرڈر جاری کرے،اسلامی و بین الاقوامی قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر فرد بچہ تصور ہوگا،کمسن ملزمان کے ساتھ رعایت اور بحالی کا اصول لاگو ہوتا ہے۔