سپریم کورٹ کا قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتےہی فوری مقدمہ درج کرنےکاحکم دیدیا، اندراج مقدمہ کی تاخیرمیں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جاسکتی ہے، اندراج میں تاخیرپرٹرائل کورٹ نوٹس لےکرقانونی کارروائی کرسکتی ہے اور تاخیر ثابت ہونے پر معاملہ محکمانہ کارروائی کیلئے آئی جی کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اندراج مقدمہ میں تاخیر کو صرف بےقاعدگی کے طور نہیں دیکھنا چاہیے، پراسیکیوٹر جنرل سندھ 2025ء سے اب تک کے قتل مقدمات کی تفصیلات جمع کرائیں، ایسے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں 24 گھنٹوں سے زائد تاخیر کی گئی،2ماہ کے اندر ضلع کے حساب سے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آج کے بعد محمد بخش کیس احکامات پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، تاخیر پر آئی جی ،ایس پی انویسٹیگیشن اور ڈی پی او کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے محمد بخش کیس کا سندھی ترجمعہ کر کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی کر دی ۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا ، مجرم علی رضا پر 2012ء میں دادو میں ایک قتل کا الزام تھا ، قتل کیس کا معلوم ہونے کے باوجود پولیس نے تاخیر سے مقدمہ درج کیا تھا ، ٹرائل کورٹ نے مجرم کو عمر قید ایک لاکھ جرمانےکی سزا سنائی تھی ، سندھ ہائیکورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا تھا ، 7صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریرکیا۔
یہ بھی پڑھیں: تیز ہواؤں اورگرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی