سپریم کورٹ کا قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی مقدمہ درج کرنے کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز)عدالت اعظمیٰ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا، سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اندراج مقدمہ کی تاخیر میں ملوث اہلکاروں کی خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے,اندراج میں تاخیر پر ٹرائل کورٹ نوٹس لے کر قانونی کاروائی کرسکتی ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ دستاویزات سے اندراج مقدمہ میں تاخیر ثابت ہونے پر معاملہ محکمانہ کاروائی کیلئے آئی جی کو بھی بھیجا جاسکتا ہے، اندراج مقدمہ میں تاخیر کو صرف بے قاعدگی کے طور نہیں دیکھنا چاہیے۔
سپریم کورٹ کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل سندھ یکم جنوری 2025 سے آج تک کے قتل مقدمات کی تفصیلات جمع کروائیں،ایسے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں 24 گھنٹوں سے زائد کی تاخیر پر مقدمہ درج ہوا ہو۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ دو ماہ کے اندر ضلع کے حساب سے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں،آج کے بعد محمد بخش کیس احکامات پر عمل نہ کرنے پر اعلی افسران کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی ہوگی،مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی ،ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی پی او کیخلاف کاروائی ہوسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے محمد بخش کیس کا سندھی ترجمعہ کرکے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی ، سپریم کورٹ نے فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا ، مجرم علی رضا پر 2012 میں دادو میں قتل کا الزام تھا ۔
قتل کیس کا معلوم ہونے کے باوجود پولیس نے تاخیر سے مقدمہ درج کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے مجرم کو عمر قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی ،ہائیکورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا تھا ،سات صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: