وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 50واں اجلاس، اہم فیصلوں کی منظوری
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ملک رحمان)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 50واں اجلاس منعقد ہوا، جو حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت مکمل طور پر ویڈیو لنک کے ذریعے کیا گیا، اجلاس میں کابینہ اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔
کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے یونیورسٹی آف ایپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کی منظوری دی، جبکہ اس منصوبے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
کفایت شعاری اقدامات کے تحت زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کی 55 خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دی گئی، جس سے حکومت کو ماہانہ تقریباً 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی، اسی پالیسی کے تحت سرکاری گاڑیوں کے پی او ایل اخراجات میں اب تک 60 فیصد کمی لائی جا چکی ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے پوسٹنگ و ٹرانسفر گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری بھی دی گئی، جس سے دور دراز علاقوں کے کالجوں میں تدریسی و انتظامی عملے کی کمی پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
کابینہ نے محکمہ اوقاف کے لیے 229 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ، جبکہ پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مستحق مریضوں کے علاج کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی، اس کے علاوہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کی دو دن کی بنیادی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز سے بھی اصولی اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:مہنگائی کا نیا طوفان:ایل پی جی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
صحت کے شعبے میں اہم فیصلوں کے تحت سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کو ایم ٹی آئی کا درجہ دیا گیا، جبکہ 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کی آسامیوں کی تخلیق اور تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے کے لیے 993 ملین روپے کی منظوری دی گئی، تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے علاج کے لیے فاطمید فاؤنڈیشن کو ایک کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔
تعلیم کے شعبے میں بطور پائلٹ پراجیکٹ 70 سرکاری اسکولوں میں میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز متعارف کرانے کی منظوری دی گئی، جس پر 450 ملین روپے لاگت آئے گی،منصوبے کے تحت 1650 طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی اور منتخب اسکولوں کو سینٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دیا جائے گا۔
کابینہ نے مختلف انتظامی و قانونی امور میں بھی فیصلے کیے، جن میں خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایپلیٹ ٹریبونل رولز 2020 میں ترامیم، الیکٹریسٹی رولز 1937 کے تحت فیسوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال اور ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 2021 میں ترامیم شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف نئی متفرق درخواست دائر
مزید برآں ضلع لوئر چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی اقدامات، مون سون سیزن سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں پر 785 ملین روپے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 2026-27 کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں کھیلوں، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے متعدد منصوبوں کے لیے گرانٹس اور امدادی پیکجز کی منظوری دی گئی، جن کا مقصد صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنا ہے۔