وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ سندھ ناکام ہو گیا، ’ایسے ہی لاکھوں لوگ 27 ستمبر کو بھی نکلیں گے‘
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ سندھ ناکام ہو گیا، ’بس ایسے ہی لاکھوں لوگ 27 ستمبر کو بھی نکلیں گے۔‘
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے 5 روزہ دورۂ سندھ کے دوران سیاسی سرگرمیاں تو جاری رہیں، تاہم عوام کی جانب سے وہ جوش و خروش نظر نہیں آیا جس کی پی ٹی آئی کی جانب سے توقع کی جارہی تھی۔ سندھ کے صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے دورے کو ’پٹاخہ سیاست‘ قرار دیا اور کہاکہ سندھ کے عوام ایسے سیاسی ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے دوست کراچی آئیں، لیکن پاکستان کےخلاف بات نہیں ہوگی، مرتضیٰ وہاب
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت نے 3 سے 7 ستمبر تک سندھ کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے کارکنوں اور عوام کو متحرک کرنا تھا تاہم انہیں توقعات کے مطابق پذیرائی نہ مل سکی۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان کے مطابق دورے کے دوران گھوٹکی سے کراچی تک مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات اور اسٹریٹ موومنٹ کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔
سندھ کے صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے یہ بھی کہاکہ اپنے صوبے کے مسائل حل کرنے کے بجائے ’پٹاخہ سیاست‘ کے لیے سندھ کا رخ کیا جا رہا ہے اور سندھ کے عوام ایسی سیاسی کوششوں کو مسترد کریں گے۔
سہیل آفریدی کے دورے کے دوران ایک مقام پر پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے دعویٰ کیاکہ لاکھوں کا مجمع پی ٹی آئی کے قافلے کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے۔ اس دعوے کو تجزیہ کاروں کی جانب سے مسترد کیا گیا اور کہا گیا لاکھوں کے مجمعے کی بات کرنا درست نہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سلمان اکرم راجا کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اور کہا جارہا ہے کہ بس ایسے ہی لاکھوں لوگ 27 ستمبر کو بھی نکلیں گے۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ہم 27 ستمبر کو 20 لاکھ کا مجمع لے کر پشاور سے نکلیں گے، اور اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورۂ سندھ ناکام رہنے کے بعد پی ٹی آئی کے اندر بھی یہ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ اگر خیبرپختونخوا کے علاوہ کسی دوسرے صوبے سے خاطر خواہ تعداد میں عوام سڑکوں پر نہیں نکلتی اور خود خیبرپختونخوا سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت یقینی نہیں، تو ایسی صورت میں 27 ستمبر کا لانگ مارچ آخر کس طرح کامیاب ہوسکے گا؟ پارٹی حلقوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مطلوبہ عوامی حمایت حاصل نہ ہونے کی صورت میں مارچ کا سیاسی اثر محدود رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کو پہلے اپنے صوبے میں دہشتگردی، بدامنی، کرپشن اور لاقانونیت جیسے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، اس کے بجائے وہ سندھ کے نوجوانوں کو سیاسی طور پر متحرک کرنے کے لیے صوبے کا دورہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: راولپنڈی بورڈ میں نویں جماعت کے امتحانات میں 184 سکولوں کا ایک بھی بچہ پاس نہیں ہوا
یہ بھی پڑھیئے: ہسٹری کا خطرناک ترین ایل نینو ؛ 2027 تاریخ کا گرم ترین سال ہو گا
سوال اٹھایا گیا ہے کہ جب خیبرپختونخوا خود متعدد چیلنجز سے دوچار ہے تو سندھ کے نوجوانوں کو سیاسی احتجاج کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کا کیا جواز ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے پاس اب محدود تعداد میں نوجوان کارکن اور حامی موجود ہیں اور ان میں سے بھی بڑی تعداد پارٹی کے ریاست مخالف بیانیے سے اتفاق نہیں کرتی۔
ناقدین نے مزید کہاکہ تحریک انصاف کا بیانیہ ریاست مخالف ہے جو باہر بیٹھے جبران الیاس اور اظہر مشوانی جیسے لوگ دشمن ایجنسیوں کی ایما پر بنا اور چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پر صادق خان حکومت کرے گا یا ظہران ممدانی؟ نیا ڈرافٹ سامنے آ گیا