انٹرنیشنل نو ٹوبیکو ڈے پر بھی پاکستان میں ٹوبیکو پروڈکٹس تمام پابندیوں سے آزاد رہیں

May 31, 2026 | 21:51:PM
 انٹرنیشنل نو ٹوبیکو ڈے پر بھی پاکستان میں ٹوبیکو پروڈکٹس تمام پابندیوں سے آزاد رہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(وسیم عظمت)پاکستان میں انٹرنیشنل نو ٹوبیکو ڈے خاموشی سے گزر گیا۔  ہر دن کی طرح  31 مئی کو بھی ٹنوں کے حساب سے ٹوبیکو پروڈکٹس کھلے عام فروخت ہوئیں اور پبلک مقامات پر آزادی سے استعمال کی گئیں۔ حکومت اور سوسل سوسائٹی کے اداروں نے تمباکو کے جان لیوا اثرات سے بچانے کے لئے کوئی تشہیر نہیں کی البتہ تمباکو بیچ کر دولت سمیٹنے والے کاروباری اداروں نے اپنی  زہریلی پروڈکٹس کی تشہیر معمول کے مطابق بلا روک ٹوک جاری رکھی۔

عالمی سطح پر انسدادِ تمباکو کے سب سے بڑے اور پہلے بین الاقوامی معاہدے یعنی فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول WHO Framework Convention on Tobacco Control (WHO FCTC) کا نفاذ 27 فروری 2005ء کو ہوا تھا۔ پاکستان میں بھی اس کنونشن کے تحت کچھ قوانین بنائے گئے ہیں جن کا اطلاق اب تک سرف سیگریٹ پر ہی ہو سکا ہے۔

انٹرنیشنل نو ٹوبیکو ڈے کیوں؟

 تمباکو کو طویل عرصہ تک ایک ثقافتی اور سماجی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اب طبی ماہرین بتاتے ہیں کہ تمباکو جان لیوا ہے لیکن ان کا پیغام کم لوگوں تک پہنچتا ہے اور اس کے برعکس تمباکو کی پروڈکٹس بیچ کر پیسہ کمانے والے اداروں اور افراد کی تشہیری پروپیگندا زیادہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ بچوں، نوجوانوں اور تمباکو کے عادی ہو چکے لوگوں کو اس جان لیوا نشہ سے بچانے کے لئے عالم ی سطح پر 31 مئی کو نو ٹوبیکو ڈے منایا جاتا ہے۔

آج 31 مئی اقوام متحدہ کا طے کردہ عالمی نو ٹوبیکو ڈے ہے۔  اس روز دنیا بھر  میں اقوام متحدہ اور سول سوسائٹی کے ادارے اور حکومتی ادارے عوام کو تمباکو کی مختلف اقسام کے نشہ کیلئے استعمال  کے جان لیوا نتائج سے آگاہ کرنے کے لئے  مختلف سرگرمیاں کرتے ہیں جن میں سیمینار، لیکچر، واک، آگاہی   آرٹ  کی نمائشیں اور نوجوانوں کی صحتمندانہ سرگرمیوں کے اجتماعات شامل ہیں۔ 

پاکستان اور پنجاب میں حکومت نے سیگریٹ پر تو انٹرنیشنل  معمولی نوعیت کی پابندیاں لگا رکھی ہیں لیکن  تمباکو کی سگریٹ سے زیادہ خطرناک شکلوں میں فروخت، استعمال اور تشہیر پر کوئی پابندی نہیں۔ سیگریٹ پبلک مقامات پر پینا منع ہے، اس پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے لیکن انہیں مقامات پر گٹکا، تمباکو والا پان، نسوار، نکوٹین کے پاؤچ اور ویپ کھلے  عام استعمال کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔


اس تاریخی معاہدے ( فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول) کی اہم تفصیلات
 اسے عالمی ادارہ صحت (WHO) کے تمام رکن ممالک نے متفقہ طور پر 21 مئی 2003ء کو جنیوا میں ہونے والی 56 ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے دوران منظور کیا تھا۔
 معاہدے کے قوانین کے مطابق، اسے اس وقت نافذ ہونا تھا جب دنیا کے کم از کم 40 ممالک اپنے ہاں اس کی باقاعدہ توثیق (Ratification) کر لیں۔ نومبر 2004ء میں 40 ویں ملک کی توثیق کے ٹھیک 90 دن بعد، یعنی 27 فروری 2005ء کو یہ قانون دنیا بھر میں لاگو کر دیا گیا۔ لیکن پاکستان مین ٹوبیکو لابی کے انتہائی طاقت ور ہونے کی وجہ سے اس عالمی قانون کا اب تک نفاذ معمولی حد تک ہی ہوا ہے۔
پاکستان نے بھی اس بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور ملک میں تمباکو  استعمال کرنے  کی ممانعت کا آرڈیننس (جیسے پبلک مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ پینے پر پابندی) اسی فریم ورک کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  محبوبہ سے ملنے کی خاطربھارتی فوج کی تحویل میں پھنسنےوالا کشمیری لڑکا کس گاؤں کا ہے، تفصیل سامنےآگئی 

 اس فریم ورک کے تحت ہی نکوٹین کی تمام اشکال اور تمباکو کی تمام اشکال کے پبلک میں کھلے عام استعمال پر مکمل پابندی لگانا بھی لازم ہے اور ان تمام پروڈکٹس کی تشہیر اور فروخت کو ریگولیت کرنا بھی لازم ہے لیکن اب تک ایسا نہین ہو رہا، سیگریت  کی انڈر ایج فروخت روکنے کا قانون موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

عام پرچون کی دوکانوں پر نکوٹین اور تمباکو کی خطرناک ترین پروڈکٹس، نسوار، گٹکا اور اب نکوٹین پاؤچ اور ویپ آسانی سے دستیاب ہیں۔  ان پروڈکٹس بچوں کو بھی کسی رکاوٹ کے بغیر فروخت کی جا رہی ہیں۔ 
 اب تک دنیا کے 183 ممالک اس قانون کا حصہ بن چکے ہیں،  پاکستان میں اس قانون کے تحت سگریٹ کی ڈبیوں پر بڑی تصویری وارننگز بنانا اور تمباکو کی اشتہار بازی پر پابندی لگانا لازمی ہے۔  لیکن نکوٹین پاؤچ، نسوار، پان مین استعمال کیا جانے والا تمباکو اور اب الیکٹرانک آلات کی مدد سے پی جانے والی نکوٹین ان تمام پابندیوں سے مکمل آزاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:   امریکہ کا جنگ بند کرنے کے معاہدہ کی طرف زیادہ واضح قدم؛ افواہیں کیا ہیں اور حقائق کیا ہیں؟