امریکہ کا جنگ بند کرنے کے معاہدہ کی طرف زیادہ واضح قدم؛ افواہیں کیا ہیں اور حقائق کیا ہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) متضاد میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا افواہوں کے درمیان امریکہ اور ایران جنگ بند کرنے کے حتمی معاہدہ کی طرف زیادہ واضح قدم اٹھا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایم او یو کےنئے فریم ورک میں 972 پاؤنڈ نیوکلئیر ڈسٹ کی حوالگی کے متعلق مفصل ٹائم لائن اور طریقہ کار طے کرنے پر زور دیا ہے اور نیوکلئیر پروگرام کی بندش اور آبنائے ہرمز کی مکمل آزاد چینل کی حیثیت کی بحالی کے لئے زیادہ واضح مطالبات ایران کو بھیجے ہیں۔ ایرانی قیادت ان سب نکات پر پہلے اتفاق کر چکی ہے۔
دو دن پہلے نیوز آؤٹ لیٹ ایکسئیس کے ذریعہ یہ خبریں آنے کے بعد کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمہ کی ڈیل پر پہنچ چکے ہیں، اب نیویارک ٹائمز کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ "معاہدہ سے دور ہو گئے ہیں" اور امریکہ کے صدر ٹرمپ نے نئے فریم ورک میں "زیادہ سخت شرائط"بھیج دی ہیں۔
امریکہ کے اخبار نیویارک ٹائمز کے حوالے سے اردو میڈیا میں بعض لوگ پورٹ کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایک نیا فریم ورک ایران کو بھیجا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ھوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی شرائط "سخت کر دی ہیں۔ یہ کون سی شرائط ہیں جو سخت کر دی ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی شرائط مزید سخت کردیں:امریکی اخبار
سوشل میڈیا میں بھی یہ عام تاثر لیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے "شرائط سخت کر دی ہیں۔ " بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی شرائط سخت کر دی ہیں۔
عام لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کون سی تین شرائط ہیں جو ٹرمپ نے اب سخت کی ہیں۔ تازہ ترین فریم ورک میں نیوکلئیر ڈسٹ کی حوالگی کی ٹائم لائن، آبنائے ہرمز میں سمندری ناکہ بندیوں کو ختم کرنے، بیلسٹک میزائلوں پر سخت پابندیاں اور علاقائی پراکسی گروپوں کی فوجی حمایت کے خاتمے کا زیادہ واضح مطالبہ کیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں مکمل رپورٹ میں
ان مطالبات میں "سخت" کیا ہے؟
دراصل یہ دو وہی مطالبات ہیں جو ٹرمپ ابتدا سے ہی کر رہے ہیں۔ اور آبنائے ہرمز کے ایران کے کنٹرول / ریگولیشین کے تحت چلنے کو امریکہ نے کسی روز بھی قبول نہیں کیا ہے۔
آپ کے یہ تینوں سوالات انتہائی اہم ہیں اور اس جاری سفارتی اور عسکری بحران کی اصل حساسیت کو واضح کرتے ہیں۔ The New York Times اور دیگر باثوق ذرائع (جیسے Axios اور Reuters) کی حالیہ رپورٹس کی روشنی میں آپ کے سوالات کے تفصیلی جوابات درج ذیل ہیں:
فریم ورک کے مسودہ میں "سخت" کیا ہے؟
امریکی حکام کے مطابق، جمعہ کے روز سچویشن روم (Situation Room) میں ہونے والے اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے مسودے میں جو تبدیلیاں کی ہیں، ان کا مقصد شرائط کو مبہم رکھنے کے بجائے مزید ٹھوس (Specific) اور وقت کی پابند (Time-bound) بنانا ہے ۔ یہ بات 24نیوز چینل i24news.tv نے رپورٹ کی ہے۔
یورینیم کی منتقلی کا طریقہ کار
پہلے صرف یورینیم کے افزودہ ہو چکے ذخائر کو ایران کی تحویل سے حاصل کرنے کی عمومی بات تھی، لیکن اب صدر ٹرمپ نے جو ترمیم شدہ مسودہ بھیجا ہے اس میں یہ "سخت" نکتہ شامل ہےکہ امریکہ کو بالکل واضح تاریخیں اور طریقہ کار چاہیے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کب، کیسے اور کس کے حوالے کرے گا۔ یہ بات بھی 24 نیوز چینل i24news.tv نے رپورٹ کی ہے۔
ایران کے منجمد اثاثوں (Frozen Assets) پر پابندی
ایران کے عرصہ سے منجمد امریکی زرمبادلہ کے ذخائر اور دوسرے اثاثے ایران کو واپس کرنا ایرانی حکومت کا مذاکرات میں اہم مطالبہ رہا ہے۔ حالیہ مسودہ میں "سخت" یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی یا انہیں فوری طور پر چھوڑنے کی کسی بھی شق پر شدید اعتراض کیا ہے کیونکہ صدر اوباما دور کے معاہدے کی طرح ایران کو کوئی بھی مالی ریلیف پہلے دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ بات بھی 24نیوز چینل i24news.tv نے رپورٹ کی ہے۔ دوسرے دو نکات کی طرح اس نکتہ پر بھی ٹرمپ کا مؤقف وہی ہے جو پہلے دن تھا اور جس کا وہ بار بار پبلک میں اظہار کر چکے ہیں۔
کیا یہ وہی مطالبات نہیں جو ٹرمپ ابتدا سے کر رہے ہیں؟
بنیادی طور پر یہ وہی پرانے مطالبات ہیں۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام روکا جائے گا
تاہم، موجودہ جنگ (جو فروری 2026ء میں شروع ہوئی) کے دوران جب پاکستان کے ذریعے ایک عبوری معاہدہ (MOU) تیار کیا جا رہا تھا تو سفارت کاروں نے جنگ روکنے کے لیے شرائط کو تھوڑا نرم یا مبہم رکھنے کی کوشش کی تھی تاکہ ایران اسے قبول کر لے اور فریقین جنگ کو روکے رہیں اور بات چیت کے لئے آگے برھ سکیں۔ اب ٹرمپ نے اس عبوری مسودے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی اصل پوزیشن کی وضاحت کی ہے جسے نیویارک اور دوسری کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس "شرائط سخت کرنا" کہہ رہی ہیں۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول کب قبول کیا؟
امریکہ نے کبھی بھی آبنائے ہرمز پر ایران کے یکطرفہ کنٹرول یا ناکہ بندی کے حق کو قبول نہیں کیا ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے جہاں سے بحری جہازوں کو آزادانہ گزرنے کا حق حاصل ہے۔
میڈیا میں ایران کے ریگولیشن کا جو ذکر آ رہا ہے، وہ دراصل مئی 2026ء کے دوران ہونے والے مذاکراتی مسودے (MOU) کا حصہ تھا، جس کے مطابق:
جنگ کے دوران جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، تو عبوری جنگ بندی کے تحت بات چیت چل رہی تھی کہ ایران وہاں سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرے گا۔ تب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں یہ طے ہو رہا ہے کہ اس گزرگاہ کی سیکیورٹی کی ریگولیشن ایران کے پاس رہے گی۔
موجودہ صورتحال
صدر ٹرمپ نے اب آبنائے ہرمز کی پرانی حیثیت کی بحالی کے نکتے پر زیادہ واضح پوزیشن لی ہے اور ایم او یو کے مسودہ میں ترمیم کر کے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس، ٹیکس یا ایرانی پابندی کے، تمام دنیا کے بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنا ہوگا ۔ اور وہاں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ایران کو ہی ہٹانا ہوں گی ۔ اس کے بدلے میں امریکہ صرف یہ کرے گا کہ ایرانی بندرگاہوں کی اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا ۔ کیونکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی، آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی کے ردعمل میں ہی کی تھی۔
اب امریکہ نے ایران کا کنٹرول تسلیم نہیں کیا، بلکہ اسی نکتے پر تنازع کی وجہ سے معاہدہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
ایکسئیس کی سٹوری
نیو زآؤٹ لیٹ ایکسئیس نے 28 مئی کو رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران معاہدے پر پہنچ گئے ہیں لیکن ٹرمپ کی حتمی منظوری درکار ہے۔
اس رپورٹ میں ایکسئیس نے بتایا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت پر معاہدہ کیا ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس کی حتمی منظوری نہیں دی، دو امریکی حکام اور ثالثی میں شامل ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ ایران نے بھی اس کی منظوری کی تصدیق نہیں کی۔
یہ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کیوں اہمیت رکھتا ہے
28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے MOU پر دستخط سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہوگی لیکن ایک حتمی معاہدہ جو ٹرمپ کے جوہری مطالبات سے متعلق ہے اس کے لیے مزید گفت و شنید کی ضرورت ہوگی۔ اب ایکسئیس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے مسودہ میں جو ترامیم کی ہیں وہ اسی معاملہ پر ایران کو پابند کرنے کی کوشش ہیں۔
امریکی حکام میں سے ایک نے کہا دو دن پہلے کہا تھا کہ "یہ سب کو میز پر لانے کا معاہدہ ہے۔ ہم بات چیت میں تفصیلات پر کام کریں گے۔" لیکن مسودہ میں ترامیم کر کے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ 80 روز کی جنگ بندی کے دوران بات چیت کو ٹائم اور رزلٹ کے حوالے سے ابھی طے کر یں گے۔
ٹرمپ کی منطوری باقی تھی، تہران معاہدہ پر دستخط کیلئے تیار تھا
پردے کے پیچھے امریکی حکام نے کہا کہ منگل (26مئی) تک معاہدے کی شرائط پر زیادہ تر اتفاق کیا گیا تھا، لیکن دونوں فریقوں کو اب بھی سینئر قیادت سے منظوری درکار ہے۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بعد میں واپس آئے اور کہا کہ ان کے پاس (تب تک طے شدہ مسودہ پر) ضروری منظوریاں موجود ہیں اور وہ دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایران نے امریکی حکام کے اس بیان کی تصدیق نہیں کی لیکن اس کی تردید بھی نہیں ہوئی۔
ٹرمپ نے سوچنے کے لئے وقت لیا
ایکسئیس کی 28 مئی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے ٹرمپ کو حتمی معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا، لیکن انہوں نے فوری طور پر دستخط نہیں کئے۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ "صدر نے ثالثوں کو بتایا کہ وہ اس بارے میں سوچنے کے لیے چند دن چاہتے ہیں۔"
فلیش بیک
ٹرمپ اور ان کے مشیروں کا خیال تھا کہ وہ جنگ کے ابتدائی مراحل میں کئی بار معاہدے کے قریب ہیں، لیکن بات چیت بار بار تعطل کا شکار رہی۔
زوم اِن
امریکی حکام نے کہا کہ 60 روزہ ایم او یو میں کہا جائے گا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی "غیر محدود" ہوگی۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ کوئی ٹول نہیں لیا جائے گا اور ہراساں نہیں کیا جائے گا اور ایران کو 30 دنوں کے اندر آبنائے سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی۔
ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی جائے گی، لیکن یہ امریکی اقدام تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے تناسب سے ہو گا۔ امریکہ ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے پابندیوں میں کچھ چھوٹ بھی جاری کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای کیسے پیغام رسانی کر رہے ہیں، امریکی انٹیلی جنس کی نئی رپورٹ
حکام نے بتایا کہ اس مفاہمت نامے (ایم او یو) میں ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم شامل ہوگا۔ اس میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ 60 دن کی جنگ بندی کے دوران بات چیت کے لیے سب سے پہلے مسائل یہ ہوں گے کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے اور ایرانی افزودگی سے کیسے نمٹا جائے۔ اب صدر ٹرمپ زیادہ واضح تجاویز اور مطالبات کے ساتھ آئے ہیں جو انہوں نے اپنے ترمیم شدہ مسودہ میں بیان کئے ہیں۔
منگل تک طے شدہ سمجھے جا رہے مسودہ کا ایک نکتہ یہ تھا کہ مریکہ مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر پابندیوں میں ریلیف اور منجمد ایرانی فنڈز کے اجراء پر بات کرنے کا عہد کرے گا۔ اب صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ عبوری دور میں ایسی کوئی رعایت دیں۔
ایم او یو کی مزید تفصیل
ایکسئیس نے 26 مئی کو رپورٹ کیا کہ اتفاق کئے گئے مفاہمت نامے میں ایران کو سامان اور انسانی امداد کی وصولی شروع کرنے میں مدد کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت بھی شامل ہوگی۔
ایم او یو میں یہ بھی کہا جائے گا کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم ہو جائے گی - ایک ایسا مسئلہ جس پر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان کم از کم ایک تناؤ پر بات ہوئی ہے۔
سپلٹ سکرین: جب ان مذاکرات کو حتمی شکل دی جا رہی تھی، امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز میں دو جھڑپیں ہوئیں۔
مئی کے آخر میں امریکیوں کی سوچ
ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب اپنی معیشت کو ڈھالنے کا موقع ہے اور "ان کے نظام میں ایسے لوگ موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مختلف سمت میں جانے کا موقع ہے،" انہوں نے مزید کہا: "ہمیں 60 دن کے مذاکرات کے دوران پتہ چل جائے گا کہ کیا ایسا ہے۔"
امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ایران کو پابندیوں میں ریلیف یا فنڈز کے حوالے سے کوئی ضمنی ڈیل یا خفیہ شقیں نہیں ہوں گی۔ ایک نے کہا کہ ایرانی جتنا زیادہ دینے کو تیار ہوں گے اتنا ہی انہیں ملے گا۔
دونوں امریکی عہدے داروں نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے مذاکرات کے دوران جوہری رعایتوں کے لیے اپنی رضامندی کے بارے میں زبانی وعدے کیے تھے، لیکن "ہم اس وقت تک نہیں جانیں گے جب تک ہم مذاکرات کے کمرے میں نہیں آتے، اسی لیے ہم یہ MOU کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں فریقین کو براہ راست بات چیت کے لیے کمرے میں لے جاتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیئے: دشمن کےوعدوں پر بھروسہ نہیں، ہمیں دھمکیوں کے سامنے نہ جھکنے کا درس ملا ہے:ایرانی سپیکر
یہ بھی پڑھیئے: ایران کی بحری ناکہ بندی صدر ٹرمپ کی سفارتکاری سے غداری ہے:محسن رضائی
یہ بھی پڑھیئے: ایران کے ساتھ ایک اچھی ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ فوجی آپریشن کرنا پڑے گا:صدر ٹرمپ
ایکسئیس کی رپروٹ کے مطابق اتفاق کی گئ یدستاویز کے متعلق ٹرمپ حکومت کے عہدیداروں نے کہا کہ MOU کا حوالہ "علاقائی امن" کو فروغ دینے کا بھی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ علاقائی پراکسیوں کے لیے ایران کی حمایت کے بارے میں بات چیت ہوگی۔
نیوکلئیر مسئلہ بنیاد ہے
ایکسئیس کی اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کے دوران یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایران جوہری مسئلے کو حل کرنے سے قاصر ہے تو ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز ہوں گے یعنی اقتصادی اور فوجی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بھیجی گئی امریکی افواج کا انخلا حتمی معاہدے سے مشروط ہے۔
لمحہِ موجود؛ آج کی صورتحال
تہران نے MOU کی منظوری کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ٹرمپ نے بدھ کو یہ بھی کہا کہ وہ جلدی میں نہیں ہیں۔ٹرمپ نے بظاہر طے پا چکے ایم او یو کے مسودے میں کئی اہم ترمیمیں اور وضاحتیں شامل کر کے مسودہ کو ایران بھجوا دیا ہے اور ایران سے اب تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اس میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: کروز میزائل داغنے کی صلاحیت، ایران نے فاسٹ اٹیک کشتی متعارف کرا دی