سندھ طاس معاہدہ، وزارت اطلاعات نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز )وزارت اطلاعات نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے بتایا گیا کہ ثالثی عدالت نے بھارت کا سندھ طاس معاہدہ ’التوا میں رکھنے‘ کا اقدام ناقابلِ قبول قرار دے دیا، بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے تحت قابلِ قبول نہیں۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق سندھ طاس معاہدہ نہ ختم ہوا ہے نہ اس کا نفاذ معطل ہوا، معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے،بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں پر عملدرآمد کا پابند ہے، بھارت مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق معاہدے کی پابندی کا پابند ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق ثالثی عدالت کے فیصلے کا پاکستان خیرمقدم کرتا ہے،ثالثی عدالت نے رَتلے پن بجلی منصوبے پر بھارت کے خلاف عبوری اقدامات متفقہ طور پر عائد کیے،بھارت رَتلے ڈیم کی دیوار اور پاور ان ٹیک اسٹرکچر کو مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ نہیں کرسکے گا۔
وزارت اطلاعات نے بتایا کہ رَتلے منصوبے پر عائد پابندیاں غیر جانب دار ماہر کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہیں گی،رَتلے منصوبے پر غیر جانب دار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے،ثالثی عدالت نے رَتلے منصوبے کے تعمیراتی شیڈول سے متعلق رپورٹنگ کا طریقہ کار بھی عائد کردیا،پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر عبوری اقدامات سے متعلق ثالثی عدالت کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق ثالثی عدالت کا فیصلہ دونوں ممالک کو سندھ طاس معاہدے کے تحت مذاکرات کی جانب واپسی میں معاون ہوسکتا ہے،حکومت پاکستان ثالثی عدالت کے تفصیلی فیصلے اور حکم نامے کی اشاعت کے بعد اس کا بغور جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں :بھارت میں سوشل میڈیا انفلوئنسر کا اغوا، تشدد کے بعد آگ لگا دی گئی