مجتبیٰ خامنہ ای کیسے پیغام رسانی کر رہے ہیں، امریکی انٹیلی جنس کی نئی رپورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی میں حالیہ اضافہ کے ساتھ ہی امریکہ کی ایک نیوز آؤٹ لیٹ میں یہ قیاس آرائی شائع ہوئی ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت کہاں ہیں۔
امریکی حکام نے امریکی انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک خفیہ مقام پر چھپے ہوئے ہیں اور پیغام رساںی کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق اس انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احتیاطی تدابیر، جن کا مقصد اسرائیل کو مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے سے روکنا تھا، جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ-ایران مذاکرات میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اعلیٰ ایرانی اہلکار بھی مجتبیٰ خامنہ ای سے براہ راست رابطہ نہیں کر سکتے۔
"یہی وجہ ہے کہ آپ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ 'سپریم لیڈر نے فریم ورک سے اتفاق کیا ہے،' یا 'ہم حتمی ڈیل پوائنٹس پر دوبارہ سپریم لیڈر کی رائے کا انتظار کر رہے ہیں۔' سپریم لیڈر کو موصول ہونے والی ہر معلومات کی تاریخ ہوتی ہے اور ان کے جوابات میں بہت تاخیر ہوتی ہے،" ایک اہلکارنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بتایا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملے، دونوں اطراف سے ڈرون گرانے کے دعوے
مجتبیٰ خامنہ ای کے والد اور پیشرو علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے پہلے دن اپنے مرکزی کمپلیکس پر بمباری میں مارے گئے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں زخمی بھی ہوئے تھے، ان کو مارچ میں اپنے والد کی جانشینی کے لیے مقرر کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے ان کو عوامی طور پر دیکھا یا سنا نہیں گیا۔
سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق، وہ واحد ایرانی اہلکار نہیں ہیں جو زیر زمین ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے کئی اہم رہنما کئی ہفتے بنکروں میں گزارتے ہیں اور ایک دوسرے سے بات چیت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: ابھی تک امریکا سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا؛ اسماعیل بقائی