امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملے،  دونوں اطراف سے ڈرون گرانے کے دعوے

May 30, 2026 | 22:16:PM
  امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملے،  دونوں اطراف سے ڈرون گرانے کے دعوے
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) ایران  نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران نے 26 مئی کو بھی امریکی ڈرون گرانے اور لڑاکا طیارے کو پسپا  کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

 آج ہفتہ کی شام ایران کی  فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریبی علاقے جزیرہ قشم میں امریکا کا جدید آربٹر ڈرون مار گرایا۔

ایرانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایئرڈیفنس فورس نے ہفتے کو امریکا-صہیونی جارح دشمن کا ڈرون کا سراغ لگایا گیا اور اس کے بعد گرایا گیا۔

آج سامنے آنے والے ایران کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ جوائنٹ ایئرڈیفنس ہیڈکوارٹرز کے مشترکہ نیٹ ورک کے تحت فعال ایرانی فوج کے ایئر ڈیفنس نے بغیرپائلٹ کے طیارے (ڈرون) کو  گرایا۔

یاد رہے کہ 26 مئی کو پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس کے ایئرڈیفنس یونٹ نے خلیج فارس کی فضا میں امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو نشانہ بنایا تھا اور خبرادار کیا تھا کہ امریکی کی جانب سے جارحیت کے ذریعے جنگ بندی کی کسی قسم کی خلاف ورزی کا جواب بھی بدترین دیا جائے گا۔

 26مئی کو پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا تھا کہ امریکی دہشت گرد فوج نے خطے میں کشیدگی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئےخلیج فارس کے خطے میں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم خفیہ نگرانی کے ذریعے پاسداران انقالب کے ایئرڈیفنس نے ایم کیو-9 ڈرون کی نشان دہی کی اور مار گرایا۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے آر کیو-4 ڈرون اور ایف-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایرانی فضائی حدود سے فرار ہوگئے۔

امریکہ کا ایران کے پانچ ڈرون گرانے کا اعلان

آج ہفتہ کے روز ایرانی کارروائی سامنے آنے سے پہلے  آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کنے اعلان کیا تھا کہ  امریکہ نے ایران کے 5 یکطرفہ حملہ کرنے میں ملوث ڈرونز (One-way attack drones) مار گرائے ہیں۔  جبکہ ایرانی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جزیرہ قشم کے قریب ایک امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا ہے۔ 
آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں حالیہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق امریکی کارروائی  میں ایران کے 5 ڈرونز نشانہ بنے۔ 
 امریکی فوج (CENTCOM) نے تصدیق کی  کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی افواج اور جہاز رانی کے راستوں کے لیے خطرہ بننے والے 4 ایرانی خودکش ڈرونز کو فضا میں مار گرایا۔

بندر عباس میں ایران کے  زمینی مرکز پر حملہ

امریکی فوج نے جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں واقع ایک زمینی کنٹرول مرکز کو بھی نشانہ بنایا، جس سے وہاں موجود 5واں ایرانی ڈرون اڑان بھرنے سے پہلے ہی زمین پر تباہ ہو گیا۔


ایران کی جوابی کارروائی
 ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے میڈیا ونگ نے رپورٹ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر جزیرہ قشم (Qeshm Island) کے قریب ایک "امریکی-صہیونی ڈرون" (ممکنہ طور پر MQ-9 Reaper ماڈل) کو مار گرایا ہے۔ تاہم، امریکی حکام نے اس دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ۔


حالیہ تنازعہ کا پسِ منظر
یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان طویل گفت و شنید کے بعد ایک عارضی جنگ بندی (Ceasefire) نافذ تھی، مگر صدر ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ  "ہرمز معاہدے" کا مسودہ مسترد کیے جانے کے بعد خطے میں دوبارہ فضائی حملوں اور ڈرون جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ ان حملوں کو "دفاعی کارروائی" قرار دے رہا ہے، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ 

 یہ بھی پڑھیں: ابھی تک امریکا سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا؛ اسماعیل بقائی