محبوبہ سے ملنے کی خاطربھارتی فوج کی تحویل میں پھنسنےوالا کشمیری لڑکا کس گاؤں کا ہے، تفصیل سامنےآگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) آزادکشمیر کا جو نوجوان محبوبہ سے ملنے کے لئے لائن آف کنٹرول پار کر گیا وہ کس گاؤں کا ہے اور اس کی محبوبہ مقبوضہ کشمیر کے کس گاؤں کی ہے۔ بھارتی فورسز کی قید میں پھنسے ہوئے آزاد کشمیر کے نوجوان اور اس کی محبوبہ دونوں کے والدین اور گاؤں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ نوجوان ذیشان اور ارم بانو کیےمحبت میں اٹھائے جذباتی قدم نے دونوں گھرانوں کو سخت تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے جب کہ وہ دونوں خود بھارتی فوج کی قید میں پھنس گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے گاؤں "پینکاڈی"کا نوجوان ذیشان میر مقبوضہ کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں واقع گاؤں تلاواڑی سلی کوٹ میں رہنے والی اپنی محبوبہ سے ملنے کے لئے لائن آف کنٹرول کو پار کر کے اُڑی سیکٹر پہنچ گیا۔ ذیشان جس لڑکی ارم بانو سے ملنے کیلئے گیا، وہ گرفتاری کے مقام سے قدرے دور تلاواڑی گاؤں میں رہتی ہے۔ اس کو ساتھ لے کر وہ واپس لائن آف کنترول کی طرف آیا تو اوڑی کے سرحدی گاؤں سلیکوٹ کے قریب بھارتی فوج نے انہیں دیکھ لیا اور گرفتار کر لیا۔بھارتی فوج کی یونٹ (12 گرینیڈیئرز) نے دونوں کو حراست میں لیا تو انہوں نے اپنی محبت کی کہانی بیان کر دیا۔
ذیشان کے ساتھ گرفتار ہونے والی لرکی ارم بانو تلاواڑی گاؤں کے عبدالمجید میر کی صاحبزادی ہیں۔
میڈیا رپورٹس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ سرحد پار محبت (Cross-Border Love Affair) کا معاملہ ہے، یہ دونوں نوجوان پہلے سے آن لائن رابطے میں تھے۔
انڈین آرمی اور سیکیورٹی ایجنسیاں اس وقت ذیشان اور ارم بانو دونوں سے تفتیش کر رہی ہیں۔ذیشان کے سرحد پار کرنے کی سادہ وجہ کی بظاہر تصدیق ہو چکی ہے۔ لیکن اب بھارتی فورسز دیکھ رہی ہیں کہ اس کے پیچھے کوئی سیکیورٹی کا دیگر معاملہ تو نہیں۔
کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر دونوں اطراف انتہائی سخت سیکیورٹی اور باڑ (Fencing) ہوتی ہے۔ دونوں اطراف باڑ کے نزدیک جانے والے کسی بھی شخص کو پکڑ کر اس سے تفتیش کی جاتی ہے۔ اس طرح کسی عام شہری کا سرحد پار جا کر پکڑے جانا میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے۔
ذیشان کی ایل او سی پار گرفتاری سے اس کے رشتہ دار تشویش میں ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ بھارتی فوج کوئی اور جھوٹی کہانی بنا کر معصوم ذیشان کو کسی جرم میں ملوث قرار دینے کی کوشش نہ کرے۔
سوشل پلیٹ فارمز پر اس وائرل کہانی کو لائن آف کنٹرول سے بالاتر محبت کی ایک اور کہانی کی حیثیت سے ڈسکس کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ محبت ریاستوں کی ٹھونسی ہوئی پابندیوں سے ٹکرا گئی اور محبت کا اسیر نتیجہ جانتے ہوئے بھی لائن آف کنٹرول پار کر گیا۔

اس واقعہ سے، کشمیر کو تقسیم کرنے والی باڑ اور خونی لکیر کے دونوں طرف کشمیریوں کے باہمی رشتوں کی کے اٹوٹ ہونے کی حقیقت ایک بار پھر ثابت ہو گئی۔
مقبوضہ کشمیر سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق لڑکے اور لڑکی کے خلاف بھارتی فوج کی طرف سے قانونی کارروائی کا امکان ہے۔
واقعہ نے دونوں اطراف کے خاندانوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف افراد بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ماضی میں بھی ایل او سی کے آرپار محبت کی کئی کہانیاں سامنے آ چکی ہیں۔
سیکیورٹی حلقوں نے شہریوں کو کسی بھی وجہ سےغیر قانونی طور پر لائن آف کنٹرول کو عبور نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکہ کا جنگ بند کرنے کے معاہدہ کی طرف زیادہ واضح قدم؛ افواہیں کیا ہیں اور حقائق کیا ہیں؟