شمالی کوریا ڈرونز اور میزائلوں کے امتزاج سے  سوارم حملوں  کی مشقیں کررہا ہے: امریکی اخبار

Sep 28, 2026 | 10:31:AM
شمالی کوریا ڈرونز اور میزائلوں کے امتزاج سے  سوارم حملوں  کی مشقیں کررہا ہے: امریکی اخبار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ایک امریکی اخبار کے مطابق شمالی کوریا نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ڈرونز کو ملا کر 'سوارم حملوں' کی باقاعدہ مشقیں شروع کر دی ہیں۔ 

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں سے سیکھی گئی یہ جدید عسکری حکمت عملی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی دفاعی نظام  کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق رواں ماہ پہلی بار ایک ایسی ہمہ جہت فوجی مشق کی گئی جس میں ایک ہی ہدف کو تباہ کرنے کے لیے بیک وقت حملہ آور ڈرونز، جوہری صلاحیت کے حامل میزائل، راکٹس اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے کو یکجا کیا گیا۔ 

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مشق کا مقصد ہتھیاروں کے تمام سسٹمز میں ایسا باہمی رابطہ پیدا کرنا تھا جس سے مرکوز فائرنگ کے ذریعے دشمن افواج کو  تباہ کیا جا سکے۔

بعد ازاں 20 ستمبر کو شمالی کوریا نے دو مبینہ ہائپر سونک میزائلوں کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا۔ 

آواز سے کم از کم 5 گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرنے اور فضا میں اچانک رخ بدلنے کی صلاحیت رکھنے والے یہ میزائل جدید دفاعی نظام کو باآسانی چکمہ دے سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی اہلیہ انتقال کر گئیں

جمعرات کے روز سرکاری میڈیا نے ایک جدید 240 ملی میٹر ملٹیپل راکٹ لانچر سسٹم کے راکٹس کے تجربات کی بھی اطلاع دی جو ہدف کو انتہائی درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ڈرونز اور میزائلوں پر مشتمل اس قسم کے کثیر الجہتی حملے یوکرین جنگ اور حالیہ ایران تنازع میں باقاعدہ ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایسے مشترکہ حملے مغربی فضائی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو عیاں کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ سوارم حملے میں ایک قسم یا مختلف اقسام کے متعدد ہتھیاروں کو بیک وقت ایک ہی ہدف پر داغا جاتاہے۔

اخبار کے مطابق اگرچہ مختلف رفتار سے سفر کرنے والے ہتھیاروں کے درمیان مربوط رابطہ قائم کرنا ایک پیچیدہ لاجسٹک چیلنج ہے لیکن کم جونگ ان اپنے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ سوویت دور کے روایتی ہتھیاروں کو جدید بنانے کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔