خون عطیہ کرنے کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے لاہورجنرل ہسپتال میں آگاہی واک 

تندرست شخص ہر چھ ماہ میں باآسانی ایک بوتل خون عطیہ کر سکتا ہے، یہ ایک عظیم فعل ہے،پرنسپل پروفیسر فاروق افضل

Jun 28, 2026 | 14:40:PM
خون عطیہ کرنے کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے لاہورجنرل ہسپتال میں آگاہی واک 
کیپشن: آگاہی واک کے شرکاء کاگروپ فوٹو
سورس: سوشل میڈیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بلڈ ڈونیشن سوسائٹی امیر الدین میڈیکل کالج کے زیر اہتمام لاہور جنرل ہسپتال میں آگاہی واک کاانعقادکیاگیا۔
آگاہی واک میں پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل ، ایم ایس پروفیسر فریاد حسین، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر طیبہ گل ملک، پروفیسر فرحان رشید، پروفیسر نازش ثقلین، پروفیسر شندانہ طارق، ڈاکٹر عبدالعزیز،میڈیکل سٹوڈنٹس اور ہیلتھ پروفیشنلز کی بڑی تعداد موجود تھی۔
 پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نےاس موقع پرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ایک تندرست شخص کا عطیہ کردہ خون کسی بھی حادثے یا ایمرجنسی میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریض کے لیے نئی زندگی کا پیغام بن سکتا ہے،قدرتی آفات، حادثات اور مہلک بیماریوں میں مبتلا افراد کو بروقت خون کا عطیہ دے کر بیش بہا انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دورِ جدید کی ترقی اور زندگی کی تیز رفتاری کے باعث حادثات بہت بڑھ گئے ہیں جن کی وجہ سے زخمیوں اور اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، آج کے دور میں انسانی جان بچانے کے لیے خون کے عطیات کی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، حادثات میں زخمی ہونے والے افراد میں سے اکثریت کو بروقت خون فراہم کر کے اُن کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور بطور ایک ذمہ دار شہری اور مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہماری اخلاقی و مذہبی ذمہ داری ہے کہ انسانیت کی عظیم خدمت کے لیے آگے آئیں اور زیادہ سے زیادہ خون کے عطیات بلڈ بینک میں جمع کروائیں۔ خون عطیہ کرنا ایسا عظیم فعل ہے جس سے نہ صرف انسانی جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ یہ قلب کے سکون کا باعث بھی بنتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ قرآن پاک میں بھی اس بات کو اہمیت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اُس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ 

یہ بھی پڑھیں:پنجاب کے تمام ڈینٹل کالجز میں5 سالہ بی ڈی ایس پروگرام نافذ
پروفیسر فاروق افضل کا مزید کہنا تھا کہ بڑے حادثات اور قدرتی آفات کے موقع پر کثیر تعداد میں زخمی ہونے والوں کو بروقت خون کی ضرورت ہوتی ہے، علاوہ ازیں زیرِ علاج مریضوں کے بڑے آپریشنز میں بھی خون کی کئی بوتلوں کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن لوگوں میں آگاہی کی کمی اور انجانے خوف کی وجہ سے مریض کے قریبی رشتے دار بھی خون دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں حالانکہ ایک تندرست شخص ہر چھ ماہ میں باآسانی ایک بوتل خون عطیہ کر سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ اور فلاحی تنظیمیں لوگوں میں خون کے عطیات دینے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کریں۔