لاہورجنرل ہسپتال سے ادویات چرانے والے دو ملزمان گرفتار،تین معطل
مریضوں کی ادویات میں خیانت کرنےوالوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا: پرنسپل پروفیسر فاروق افضل،ایم ایس پروفیسر فریاد حسین
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عابدچوہدری)لاہورجنرل ہسپتال سے ادویات چرانے والے دو ملزمان کوگرفتارکرلیاگیا ۔
لاہورجنرل ہسپتال کی انتظامیہ نے ادویات چوری کرنے والے ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا،مقدمہ اے ایم ایس سفیان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم مبشر اقبال ڈسپنسر میاں حامد سے مل کر ادویات چراتے تھے،سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزیداضافہ
پولیس کے مطابق ملزمان سے لاکھوں روپےمالیت کی چوری شدہ ادویات بھی برآمدکرلی گئی ہیں۔
جنرل ہسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی وارڈ سے ادویات چوری کے واقعہ پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ملوث ملازمین کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا جبکہ ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل کو پیش کر دی۔
ادویات چوری میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے میاں حامد ندیم، محمد سعد اللہ ظفر فارمیسی ٹیکنیشن اور راشد وارڈ اٹینڈنٹ کو ملازمت سے معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں، ڈی ایم ایس ایمرجنسی ڈاکٹر محمد تنویر کو سرکاری فرائض میں عدم دلچسپی پر وارننگ جاری کرتے ہوئے نگرانی مزید مؤثر بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین کا کہنا ہے کہ ادویات کے ریکارڈ کی مکمل اور شفاف پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ تمام معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا سکے۔
پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے واضح کیاہے کہ جنرل ہسپتال میں کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور مریضوں کی ادویات میں خیانت کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ انتظامی ڈاکٹرز کو ادویات کی خرید، وصولی، ریکارڈ اور ترسیل کے تمام نظام کی مانیٹرنگ مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ہسپتال میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔