نشے میں ایکسیڈنٹ کر کے کسی کی جان لینے والے پر اب قتل کا مقدمہ بنے گا، قانون میں ترمیم آگئی

Jan 21, 2026 | 23:09:PM
نشے میں ایکسیڈنٹ کر کے کسی کی جان لینے والے پر اب قتل کا مقدمہ بنے گا، قانون میں ترمیم آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) نشے میں ایکسیڈنٹ کر کے کسی کی جان لینے والے پر اب قتل کا مقدمہ بنے گا۔ قانون میں ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ، ارشد عبداللہ ووہرا، ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن  نے قومی اسمبلی میں پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل 2025 پیش کردیا  ہے۔ اس ترمیم کے مسودہ مین کہا گیا ہے کہ  نشے کی حالت میں گاڑی/موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کسی انسان کی جان لینے والے پر قتل کا مقدمہ چلائے جائے۔ قانون کے مسودہ میں ایسے ایکسیڈنٹ میں انسانی جان جانے پر قتلِ خطا کا مقدمہ درج کرنے کے لئے ترمیم تجویز کی گئی ہے، جس میں ڈرائیور نشے میں پایا جائے۔

یہ  ترمیم منظور ہو جانے کے بعد  نشے کا استعمال کرنے کے بعد کسی سڑک پر  حادثے کے مرتکب شخص پر قتلِ خطا کا مقدمہ درج ہو گا اور اس  کو جرم ثابت ہونے پر قتلِ خطا کی سزا ،  دس سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزا  دی جائے گی۔

قانون مین ترمیم کے اس مسودہ میں کہا گیا ہے کہ سڑک پر جس حادثے جس میں کسی انسان کی موت ہو جائے یا شدید جسمانی زخم آئیں،  تو ایسے حادثہ کی جگہ سے متعلقہ پولیس سٹیشن کا سینئیر اہلکار  حادثے میں ملوث فرد یا افراد کے نشے مین ہونے کا تعین کرنے کے لئے ان کے خون، تھوک، سانس وغیرہ کے ٹیسٹ کروائین گے۔ صرف  تھانے کا انچارج یا تفتیشی افسر جو سب انسپکٹر کے عہدے س کا ہو گا، وہ یہ ضروری قانونی کارروائی مکمل کرے گا۔ 

 سڑک پر حادثہ/ روڈ ایکسیڈنٹ میں ملوث ڈرائیور  کے نشے میں ہونے  کی تصدیق ہو جانے پر  انچارج پولیس افسر ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی قتلِ خطا کی دفعہ322درج کرے گا۔ یا  قتل کی دفعہ 302 درج کرے گا۔ 

یہ بھی پڑھیں : حماس نے ہتھیار نہ چھوڑے تو حماس کو  تباہ کردیا جائے گا، ٹرمپ کا اعلان

قانون مین ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی مین لانے والے ارکان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر جان لیوا حادثات کی ایک  وجہ ڈرائیونگ کرنے والے اشخاص کا مختلف نشوں کے زیر اثر ہونا ہے۔ اس رجحان کے سبب قیمتی انسانی جانیںت ضائع ہونے کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔  سزا میں سختی اس رجحان کو روکنے میں معاون ثابت ہو گی۔