نئے انتظامی یونٹس سے قتل و غارت نہیں ہوگی، پاکستان کو جوڑنے کی بات کرتے ہیں:مصطفیٰ کمال
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں نیا انتظامی یونٹ بننے سے کوئی قتل و غارت گری نہیں ہوگی، ہم پاکستان کو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔
کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے سے رہ رہے ہیں، اگر قتل و غارت گری ہونی ہوتی تو شہر میں موجود مسائل اور محرومیوں پر اب تک حالات خراب ہوچکے ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بننے کی صورت میں کراچی میں رہنے والے اردو بولنے والے لوگ سندھی بھائیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کریں گے اور قتل و غارت گری یا ہنگامہ آرائی ہوگی، تاہم یہ خدشہ بے بنیاد ہے۔
مزید پڑھیں:سندھ میں کاشت کاروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ ، 4 ہزار روپے فی ایکڑ امداد کا اعلان
مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں نہیں دی جاتیں، حتیٰ کہ ان کے بقول 18 سالہ دور حکومت میں ایک چپڑاسی کی نوکری تک نہیں دی گئی، انہوں نے کوٹا سسٹم کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں نوجوانوں کو مختلف واقعات میں جان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں، کہیں ٹریفک حادثات میں لوگ مارے جاتے ہیں اور کہیں معمولی رقم یا موبائل فون چھیننے کے دوران انہیں گولی مار دی جاتی ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو پینے کا پانی، بہتر سڑکیں اور بنیادی شہری سہولتیں میسر نہیں، شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے جبکہ مختلف سرکاری محکموں میں رشوت کا مسئلہ موجود ہے اور کاروباری افراد سے بھی رشوت طلب کی جاتی ہے۔