سندھ میں کاشت کاروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ ، 4 ہزار روپے فی ایکڑ امداد کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) سندھ کابینہ نے کاشت کاروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے 4 ہزار روپے فی ایکڑ امداد کا اعلان کر دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کے اجلاس میں گندم آبادگاروں، لینڈ ریکارڈ، صحت، کھیل، اعلیٰ تعلیم اور دیگر شعبوں سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے,کابینہ نے گندم آبادگاروں کے لیے اضافی سبسڈی پیکیج کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ خوراک کو گندم فراہم کرنے والے ہاریوں کی اضافی سبسڈی ایک ہزار سے بڑھا کر 2 ہزار روپے فی من کردی۔
25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے آبادگار سبسڈی کے اہل ہوں گے، جبکہ تقریباً5 لاکھ 50 ہزار آبادگاروں کو پیکیج سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، اس پر 14.9 ارب روپے خرچ ہوں گے اور مجموعی سبسڈی تقریباً 16ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، نئی رجسٹریشن ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:چلی:پٹرول میں ایتھنول شامل کرنے کی تجویز پر غور شروع
سندھ کابینہ نے مٹیاری اور سکھر کے تین پائلٹ دیہہ میں بلاک چین پر مبنی ای ٹرانسفر آف ٹائٹل نظام کی بھی منظوری دی، جس کے تحت زمین کی ملکیت کی منتقلی ڈیجیٹل اور انسانی مداخلت کے بغیر ہوگی،کابینہ اجلاس میں این آئی سی ایچ کراچی میں 445 بستروں پر مشتمل 13 منزلہ بلقیس و عبدالستار ایدھی میڈیکل ٹاور کی منظوری بھی دی گئی، جس پر 17 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔
کابینہ نے جامع اسپورٹس پالیسی، نوجوان پالیسی سے متعلق سفارشات اور اعلیٰ تعلیم میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے قانونی ترامیم بھی منظور کیں، جبکہ پراسیکیوشن سروس میں سینئر عہدوں پر ترقی کے ذریعے تعیناتی کے نظام کی منظوری دی گئی۔
صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ کاشت کاروں کو 4 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی، جبکہ مزید ڈھائی لاکھ کاشت کاروں کی رجسٹریشن کی جائے گی، گزشتہ برس 3 لاکھ 35 ہزار کاشت کاروں کو ڈی اے پی اور یوریا فراہم کیا گیا تھا، جبکہ اس بار 56 ہزار سے زائد کاشت کاروں سے گندم خریدی گئی ہے۔
وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ 57 ہزار کاشت کاروں نے محکمہ خوراک کو 80 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی، انہیں 2 ہزار روپے فی من دیے جا رہے ہیں، جبکہ ماہانہ 4 ہزار روپے براہ راست اکاؤنٹس میں منتقل کیے جائیں گے۔