جب آپ نے کوئی آپشن نہیں چھوڑا تو عمران خان نے تحریک کی کال دی ، مسرت جمشید چیمہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ عمران خان ہمیشہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن جب آپ نے کوئی آپشن نہیں چھوڑا تو عمران خان نے تحریک کی کال دی ، عوام کا بھی شدید دبائو ہے کہ عمران خان کو جیل سے باہر لانے کیلئے کیوں تحریک کی کال نہیں دی جارہی ،اس وقت ملک میں بدترین حالات ہیں،امن و امان سے لے کے معاشی حالات تک دگرگوں ہیں لیکن ان کی ساری توجہ تحریک انصاف کو فکس کرنے پر ہے،عمران خان اور بشری بی بی کو جیل میں ہر طرح کی اذیت دی جا رہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق جمشید اقبال چیمہ اور وکلاء کے ہمراہ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ سوال بھی ایک ہے اور جواب بھی ایک ہے کہ اب ملک کے ساتھ تماشہ بند ہونا چاہیے ،ہم پر امن شہری ہیں،میں نے عمران خان سے زیادہ پر امن سیاسی لیڈر نہیں دیکھا جن پر لوگ اندھا اعتماد کرتے ہوں اور اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لئے تیار ہوں۔عمران خان نے کبھی انتشار پھیلانے کی بات نہیں کی ،انہوں نے کبھی بد امنی کا سوچا نہیں منصوبہ بنانا تو دور کی بات ہے ۔لیکن اس کے باوجود ایک پر امن محب وطن اتنے بڑے لیڈر کے ساتھ یہ ناروا سلوک کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ تنقید کرنے پر لوگوں کو جوتے مارنے کی بجائے اپنے اعمال پر غور کریں ،اس ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلنے دیں ،ملک کی عوام کو آزاد کریں ،عوام نے جنہیں مینڈیٹ دیا ہے وہ واپس کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ جب آپ کسی کو گردن سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگاتے ہیں تو کسی کے پا س کیا آپشن بچتا ہے ۔عمران خان نے تحریک کی کال دی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے عمران خان کے پاس کوئی آپشن نہیں چھوڑا،عمران خان ہمیشہ مذاکرت کی بات کرتے ہیں جب آپ یہ آپشن ہی نہیں رہنے دیں گے تو پھر کیا جائے ،عوام کا بہت دبائو ہے کہ عمران خان کو نکالنے کے لئے ہر سطح پر جانا چاہیے اور پارٹی احتجاج کی کال کیوں نہیں دے رہی ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بد ترین بد سلوکی کی جارہی ہے ،ان کا دھیان لاقانونیت اور انتشار پھیلانے والوں ،جو جرائم کر رہے ہیں، جو اصل دہشتگرد اوراصل مجرم ہیں ان کی طرف نہیں ہے بلکہ جو سب سے پڑھا لکھا ،آئین وقانون کی بالا دستی کی بات کرنے والا طبقہ ہے ان کو فکس کرنے پر ہے ۔ ہمارے ذہنوں میں تو انصاف کا تصور تک نہیں آتا کہ ملک کے اداروں سے ہمیں انصاف ملے گا ، ہمارے پاس صرف شاہراہیں بچتی ہیں اور ہمیں ملک کا آئین احتجاج کرنے کا حق دیتا ہے اورعوام اس کے لئے تیار ہیں ۔میری اپیل ہے کہ ایک بندہ جواس ملک کا بھلا چاہتا ہے جو آپ کی قید میں ہے ا س کے ساتھ بیٹھیں بات چیت کے ساتھ معاملات حل کریں ، انصاف پر مبنی فیصلے دیں ہمیں ریلیف نہیں چاہیے لیکن انصاف تو چاہیے ۔ آپ نے9مئی کے مقدمات میں ہمارے خلاف وہ گواہ بنایا ہے وہ ٹیبل کے اندر کیسے گیا حالانکہ اس دن تو وہ چھٹی پر تھا ۔ ،عدلیہ سے اپیل ہے کہ میڈیا بھی اس بند ے کی اس دن کی لوکیشن چیک کرے کہ جب9مئی کی سازش پک رہی تھی تو اصل میں وہ بندہ کہاں پر تھا سب کچھ سامنے آ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ’کونٹینٹ‘ میں نقائص کی شکایت عام،انسان غلطیاں ٹھیک کرکے لاکھوں کما ئیں گے