لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے شعبے کیلئے 63 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص 

Jun 16, 2026 | 19:16:PM
لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے شعبے کیلئے 63 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پنجاب حکومت نے لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے شعبے کیلئے 63 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کر دیا۔

مزدوروں کے تحفظ، روزگار کے فروغ، چائلڈ لیبر کے خاتمے اور ادارہ جاتی اصلاحات کیلئے متعدد نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔راولپنڈی، گوجرانوالہ اور رحیم یار خان میں آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ سینٹرز کے قیام کیلئے 15 کروڑ روپے مختص کر دیئےگئے۔مزدوروں کو محفوظ اور صحت مند ورک پلیس فراہم کرنے کیلئے جدید سہولیات متعارف کرائی جائیں گی۔

پنجاب بھر میں ایمپلائمنٹ فسیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کیلئے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔روزگار کے متلاشی افراد کی رہنمائی اور ملازمتوں تک رسائی کیلئے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں گے۔لیبر مارکیٹ ریسرچ سیل کے قیام کیلئے بھی 7 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔صوبے میں افرادی قوت، روزگار کے رجحانات اور مارکیٹ ضروریات پر تحقیق کیلئے خصوصی سیل قائم ہوگا۔نئی قائم شدہ ٹیسٹنگ سہولیات کیلئے جدید آلات کی خریداری پر 5 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

ضلعی لیبر دفاتر کی عمارتوں کی تزئین و آرائش اور بہتری کیلئے 5 کروڑ روپے،پنجاب میں پیشہ ورانہ بیماریوں کی نشاندہی اور میپنگ کیلئے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔کارخانوں اور صنعتی شعبوں میں مزدوروں کو درپیش بیماریوں کا جامع ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔

چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے کیلئے ایلیمینیشن آف چائلڈ لیبر اینڈ ایڈووکیسی یونٹ قائم کیا جائے گا۔چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے خصوصی یونٹ کے قیام پر 4 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔بھٹہ خشت مزدوروں کیلئے بہتر اور باوقار کام کے ماحول کی فراہمی پر 3 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل لیبر ویلفیئر کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے دوسرے مرحلے کیلئے 3 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔لیبر ویلفیئر کے امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا۔پنجاب حکومت نے سوشل ویلفیئر کے شعبے کیلئے 2 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کر دیا۔خصوصی افراد، خواتین، بزرگ شہریوں اور فلاحی اداروں کی بہتری کیلئے متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

بجٹ میں افراد باہم معذوری کیلئے معاون آلات کی فراہمی کے دوسرے مرحلے کیلئے 60 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔خصوصی افراد کو خودمختار اور بااختیار بنانے کیلئے جدید معاون آلات فراہم کیے جائیں گے۔پنجاب میں آفیات اولڈ ایج ہومز کے قیام کیلئے 31 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

بزرگ شہریوں کیلئے جدید سہولیات سے آراستہ رہائشی مراکز قائم کیے جائیں گے۔

پنجاب بھر کے صنعت زار مراکز کی اپ گریڈیشن کیلئے 25 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،خواتین کی ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کیلئے صنعت زار مراکز کو جدید بنایا جائے گا،ساہیوال، سرگودھا اور بہاولپور میں ویمن پروٹیکشن سینٹرز کے قیام کیلئے 8 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،خواتین کے تحفظ اور قانونی معاونت کیلئے نئے مراکز قائم کیے جائیں گے۔

پنجاب بھر میں ماڈل گارمنٹ ولیجز کے قیام کیلئے 7 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی موجودہ سہولیات کی بحالی اور بہتری کیلئے 11 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کیلئے جدید مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی تیاری پر 5 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ پنجاب حکومت نے فوڈ سیفٹی اور کنزیومر پروٹیکشن کے شعبے کیلئے 90 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کر دیا،محفوظ خوراک، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کیلئے متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

لاہور میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ہاؤس کے قیام کیلئے 24 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں،پنجاب فوڈ اتھارٹی کیلئے جدید مرکزی ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا۔راولپنڈی میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اور پنجاب فوڈ اتھارٹی ٹریننگ سکول کے قیام کیلئے 20 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔خوراک کی جانچ پڑتال اور فوڈ سیفٹی افسران کی تربیت کیلئے جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

زرعی مارکیٹنگ انفارمیشن سروس کو مضبوط بنانے کیلئے مارکیٹنگ فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔اس منصوبے کیلئے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔پنجاب بھر میں اشیائے ضروریہ کی نگرانی اور قیمتوں کی مانیٹرنگ کیلئے 12 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔صارفین کو درپیش خطرات اور کمزوریوں کی نشاندہی کیلئے خصوصی میپنگ پروگرام شروع کیا جائے گا۔

کنزیومر پروٹیکشن کونسل کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کیلئے 5 کروڑ روپے مختص کئے  گئے ہیں۔پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 میں بورڈ آف ریونیو کے تحت براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 13 ارب 98 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کر دیئے۔

بورڈ آف ریونیو کے تحت ڈائریکٹ ٹیکسز کی وصولیوں کے لیے 13.98 ارب روپے سے زائد کی بجٹ مختص رقم مقررکردی گئی۔مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 72 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔حکومت نے ٹیکس محصولات میں اضافے اور ریونیو بیس کو وسعت دینے کے لیے براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں خطیر فنڈز مختص کر دیئے۔بورڈ آف ریونیو کے مالی وسائل میں اضافے سے صوبائی آمدن بڑھانے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

محکمہ خوراک کے لیے مالی سال 2026-27 میں 48 ارب روپے کا بجٹ مختص کر دیا گیا۔48 ارب روپے کی خطیر رقم گندم کی خریداری، ذخیرہ سازی اور غذائی تحفظ کے اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔محکمہ خوراک کے بجٹ کا مقصد صوبے میں اشیائے خورونوش کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں غذائی تحفظ کے شعبے کو ترجیح دیتے ہوئے محکمہ خوراک کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے۔پنجاب حکومت نے ریونیو میں اضافے، کوآپریٹو سیکٹر کی مضبوطی اور غذائی تحفظ کے لیے مختلف محکموں کے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز مختص کر دیئے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان انتخابات؛استحکام پاکستان پارٹی کا ن لیگ ،پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کو بڑاسرپرائز

دیگر کیٹیگریز: بجٹ - پاکستان - پنجاب
ٹیگز: