افواج پاکستان نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھے گا:وزیراعظم
شہباز شریف نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ “معرکۂ حق” کی عظیم کامیابی کو پوری قوم نے جوش و خروش سے منایا جبکہ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پوری قوم اس موقع پر یکجان اور دو قالب تھی، افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 28 مئی کی آمد قریب ہے، یہ وہ تاریخی دن ہے جب پاکستان ایٹمی قوت بنا، پاکستان کا قومی بیانیہ واضح ہے کہ ایٹمی اثاثے جارحیت کے لیے نہیں بلکہ ملک کے دفاع کے لیے ہیں اور دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی جبکہ نواز شریف نے اس پروگرام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو معاشی قوت بنایا جائے، وزیرِ اعظم کے مطابق شہداء کے خون سے اس دھرتی کی آبیاری ہو رہی ہے اور ملک کی ترقی و استحکام کے لیے جدوجہد جاری رہے گی ۔
علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کی فراہمی، سستے گھروں کے منصوبے بشمول نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور عوامی سہولیات کی بہتری ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بے ہنگم شہری پھیلاو کی وجہ سے زرعی زمین پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے لئے مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے، ہاؤسنگ کے شعبے میں تمام معاملات کو ڈیجیٹائز اور آٹو میٹ کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو فروغ ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہاوسنگ سیکٹر میں بیرون ملک سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے اس سیکٹر کو ضابطہ کار کے تحت لانا ضروری ہے۔
اجلاس کو ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات کے حوالےسے تجاویز پیش کی گئیں، بریفنگ دی گئی کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں شفافیت لانے کے حوالے سے معتبر سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ریگیولیٹری فریم ورک سہل کیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہاوسنگ اور ڈیولپمنٹ سیکٹر میں کام کرنے والوں کے لئے ایس ای سی پی، میں رجسٹریشن لازمی قرار دی جانی چاہئے، شہروں کے بے ترتیب پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے بھی حکمت عملی بنائی جائے گی۔
مزید پڑھیں:بجٹ میں کاروباری ماحول کو سازگار بنانا اولین ترجیح ہوگی:احسن اقبال
یہ بھی بتایا کہ بڑے شہروں میں اونچی عمارتوں اور ورٹیکل ایکسپینشن کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، بڑے شہروں کے لئے ماسٹر ٹاؤن پلاننگ کی تجویز دی گئی، ڈویلپرز، خریداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے حقوق کی تحفظ کے حوالےسے ون ونڈو سسٹم قائم کیا جانا چاہئے۔
وزیراعظم نے اجلاس میں پیش کردہ تجاویز کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کرنے کی ہدایت کر دی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیر زادہ، وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی روابط رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی ، چیئرمین نیب لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔