افغان طالبان نے مرد بن کر کام کرنے والی بچی کو روٹی مہیا کرنے کی بجائے قید میں ڈال دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) افغانستان کی نام نہاد امارتِ اسلامیہ نے گھر والوں کو روٹی کھلانے کے لئے مرد کا حلیہ بنا کر مزدوری کرنے والی بچی کی روپے کی ضرورت پوری کرنے کی بجائے اس کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا۔
افغانستان کے پاکستان سے ملحق صوبہ ہلمند میں طالبان ریجیم کے اہلکار مردوں نے مردوں جیسا لباس پہن کر مزدوری کرنے والی کم عمر بچی کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس بچی کی عمر صرف 13 سال ہے۔ وہ مردوں جیسا حلیہ بنا کر گھر سے نکلتی اور مزدوری کر کے اپنے گھر والوں کی روٹی کے لئے کچھ کمانے کی کوشش کرتی تھی۔ طالبان ریجیم کے مرد اہلکاروں نے اس بچی کی پیسے کی ضرورت پوری کرنے کی بجائے اس مردانہ لباس پہن کر مردوں کے درمیان "مزدوری کرنے کے جرم" میں گرفتار کر لیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 13 سال عمر کی یہ بچی تین سال سے مردانہ حلیہ بنا کر ایک ریسٹورنٹ پر مزدوری کر رہی تھی۔ اس بچی کا نام نوریہ ہے۔ جہاں یہ مزدوری کرتی تھی اس آؤٹ لیٹ کا نام معولم نہیں آ سکا۔ اس بچی نے کیفے کے مالک اور وہاں کام کرنے والوں کو اپنا نام "نور احمد" بتا رکھا تھا۔
طالبان ریجیم کے اہلکاروں نے اس 13 سال کی ضرورت مند بچی کو گرفتار کرن کے قید میں ڈالنے کے کے لئے اس کا جرم یہ بتایا کہ وہ "عورت" ہے اور مردوں کے درمیان مزدوری کر کے بے پردہ زندگی گزار رہی ہے۔ ایک کیفے میں ملازمت کر رہی تھی۔
طالبا ن یجیم کے ظلم کا یہ واقعہ سوشل میڈیا میں ہر طرف پھیل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: خطرناک ترین گرین شرٹ عثمان طارق کے آج میچ میں اوورز کا جائزہ، مخالفوں کی نیندیں حرام
انسٹاگرام پر وائرل ہو چکی ایک مختصر ویڈیو میں کم عمر ضرورت مند بچی نوریہ نے بتایا کہ ان کے والد ک فوت ہو چکے ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد ان کے گھرانے میں روٹی کے لئے کچھ کمانے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں اور شدید غربت کے باعث مردوں والا لباس پہن کر کیفے پر مزدوری کرنے پر مجبور ہوئی۔
اس معصوم بچی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی جینڈر کی شناخت چھپانے کی کوشش کی لیکن آخرکار ان کا راز فاش ہوگیا اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
طالبان ریجیم کے کنٹرول میں یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کے اقتدار میں افغانستان میں خواتین کے گھر سے باہر آ کر مزدوری کرنے، تعلیم حاصل کرنے، کسی بھی طرح کی ملازمت کرنے اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
تمام سرکاری اور نجی اداروں اور کاروباروں میں خواتین کے کام کرنے پر طالبان کی سخت پابندی کے باعث مزدوری کرنے کی ضرورت مند ہزاروں خواتین روزگار سے محروم ہوچکی ہیں۔
نتیرہ سال کی بچی وریہ کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور ایک بار پھر طالبان ریجیم کے مقبوضہ افغان معاشرہ میں افغان خواتین کو درپیش مشکلات اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: کراچی: آئل ٹینکر اور مسافر بس میں تصادم میں کم سن بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق