لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ

Aug 31, 2026 | 17:29:PM
لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ
کیپشن: لاہورہائیکورٹ، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ کر دیا،پنجاب چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی قراردیدیا گیا۔

ہینا اسلم کی شادی نکاح کے وقت عمر تقریباً 15 سال ہونے کا عدالت میں انکشاف ہوا، ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کی شادی کے خلاف نئی ایف آئی آر کی درخواست پر پولیس کو تحقیقات کا حکم  دیدیا،عدالت نے جسٹس  آف پیس کا اندراج  مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

کم عمر بچی کی شادی سے متعلق نئے شواہد پر پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کر دی گئی،لاہور ہائیکورٹ نے ہینا اسلم کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے حوالے کرنے کا بھی حکم دے دیا،عدالت نے ہینا اسلم کی حفاظت، فلاح و بہبود اور مفادات کو مقدم رکھنے کی ہدایت کی۔

عدالت نےکہاکہ بچے کی مرضی اہم ہے لیکن کم عمری کے باعث اسے خود بخود فیصلہ کن نہیں سمجھا جا سکتا، کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف قانون کا مقصد بچوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ 

عدالت نے قابل سزا جرم کی موجودگی کا تعین کرنے کیلئے نئے مقدمے کی تحقیقات کا حکم دے دیا،لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچی کو فوری تحفظ فراہم کرنے کیلئے متعلقہ اداروں کو اقدامات کا حکم دیدیا۔

عدالت نے کہاکہ درخواست گزار نے اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا، دوبارہ بھی ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے، جسٹس منور اقبال دوگل نے شہری محمد اسلم کی درخواست پر حکم جاری کیا ۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین پیش ہوئے ،درخواست گزار نے اپنی کم عمر بیٹی سے شادی کرنے والے شوہر کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

یہ بھی پڑھیں:سیمنٹ سستا ہوگیا، فی بوری قیمت کتنی کم ہوئی؟