غیر ملکی میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کیلئے نیشنل رجسٹریشن امتحان کا انعقاد 14 دسمبر کو ہوگا

Dec 13, 2025 | 18:36:PM
غیر ملکی میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کیلئے نیشنل رجسٹریشن امتحان کا انعقاد 14 دسمبر کو ہوگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابرشہزادتُرک)غیر ملکی میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کے لیے نیشنل رجسٹریشن امتحان (این آر ای) 14 دسمبر 2025 کو ملک بھر کے بڑے علاقائی مراکز میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ امتحان پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی پالیسی کے مطابق نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (نُمز)، راولپنڈی کے زیرِ انتظام لیا جائے گا۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق مجموعی طور پر 7 ہزار 76 غیر ملکی میڈیکل و ڈینٹل گریجویٹس نے رجسٹریشن کروا رکھی ہے، جن میں 6 ہزار 989 میڈیکل جبکہ 87 ڈینٹل گریجویٹس شامل ہیں۔ امتحان چار مراکز اسلام آباد/راولپنڈی، لاہور، کراچی اور پشاور میں منعقد ہوگا۔ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد/راولپنڈی میں 2 ہزار 358 میڈیکل اور 43 ڈینٹل، لاہور میں 3 ہزار 562 میڈیکل اور 30 ڈینٹل، کراچی میں 499 میڈیکل اور 4 ڈینٹل جبکہ پشاور میں 570 میڈیکل اور 10 ڈینٹل امیدوار امتحان میں شریک ہونگے، پی ایم ڈی سی کے مطابق غیر ملکی تعلیمی اداروں سے میڈیکل یا ڈینٹل ڈگری حاصل کرنے والے گریجویٹس اس امتحان میں کامیابی کے بغیر نہ تو عارضی یا مستقل رجسٹریشن کے اہل ہوں گے اور نہ ہی انہیں آزادانہ پریکٹس کی اجازت دی جائے گی۔ کونسل کا کہنا ہے کہ نیشنل رجسٹریشن امتحان پیشہ ورانہ اہلیت جانچنے کے لیے ایک شفاف، معیاری اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ نظام کے تحت منعقد کیا جاتا ہے۔ امتحان کے دونوں مراحل کامیابی سے مکمل کرنے والے امیدواروں کو متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔

 پی ایم ڈی سی کے مطابق امتحان کے تمام انتظامات مکمل کر لئےگئے ہیں۔ امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 10 بجے تک اپنے متعلقہ امتحانی مراکز میں رپورٹ کریں، جبکہ امتحان دوپہر 12 بجے شروع ہوگا۔ مقررہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کی صورت میں امیدوار کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ادھر پی ایم ڈی سی نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم کے لیے بھیجتے وقت صرف تسلیم شدہ اور منظور شدہ تعلیمی اداروں کا انتخاب کریں۔ کونسل نے غیر معیاری یا ناقص معیار کے غیر ملکی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلہ لینے کو طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے نہ صرف وقت اور سرمایہ ضائع کرتے ہیں بلکہ طبی پیشے کے وقار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں انفلوئنزا کی تیزی سے پھیلنے والی ذیلی قسم (سب کلاڈ-کے) کی نشاندہی