پاکستان میں انفلوئنزا کی تیزی سے پھیلنے والی ذیلی قسم (سب کلاڈ-کے) کی نشاندہی

Dec 13, 2025 | 18:10:PM
پاکستان میں انفلوئنزا کی تیزی سے پھیلنے والی ذیلی قسم (سب کلاڈ-کے) کی نشاندہی
سورس: courtesy Flu.co.uk
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد ترک)پاکستان میں انفلوئنزا کی تیزی سے پھیلنے والی ذیلی قسم (سب کلاڈ-کے) کی نشاندہی ہوئی ہے۔قومی ادارہ صحت اسلام آباد کے حکام کے مطابق پاکستان میں انفلوئنزا اے (H3N2) کی ایک تیزی سے پھیلنے والی تبدیل شدہ ذیلی قسم، جسے سب کلاڈ-کے کہا جاتا ہے، کی نشاندہی ہوئی ہے، تاہم قومی ادارہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، موسمی فلو کی ویکسین بدستور شدید بیماری اور اسپتال میں داخلے سے تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

24 نیوز کے رابطہ کرنے پر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں تجزیہ کیے گئے انفلوئنزا کے 10 سے 20 فیصد نمونے H3N2 قسم کے تھے، اور ملک میں اس کی متعدد ذیلی اقسام گردش کر رہی ہیں، جن میں تبدیل شدہ سب کلاڈ-کے بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال عالمی رجحانات کی عکاس ہے، این آئی ایچ کے حکام کے مطابق H3N2 وائرس کی سب کلاڈ-کے دنیا کے کئی حصوں میں فلو کی زیادہ شدید سرگرمی سے منسلک رہی ہے، خصوصی طور پر برطانیہ میں اسے ’’سپر فلو‘‘ کا نام دیا گیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ یہ وائرس سابقہ اقسام کے مقابلے میں زیادہ شدید بیماری کا باعث بنتا ہے، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ ترین تشخیص کا حوالہ دیتے ہوئے این آئی ایچ نے بتایا کہ انفلوئنزا اے H3N2 کی سب کلاڈ-کے، جو پہلے J.2.4.1 کے نام سے جانی جاتی تھی، جینیاتی طور پر ایک منفرد سلسلہ ہے اور 2025-26 کے ابتدائی فلو سیزن میں عالمی سطح پر غالب رہی ہے، اس وائرس میں اس سیزن کی ویکسین کے لیے منتخب کردہ H3N2 قسم کے مقابلے میں نمایاں جینیاتی فرق پایا جاتا ہے، جس کے باعث انفیکشن کے خلاف تحفظ میں کچھ کمی آ سکتی ہے، تاہم ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ویکسین شدید بیماری کے خلاف بامعنی تحفظ فراہم کرتی رہتی ہے، دوسری جانب متعدی و وبائی امراض کے ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت فلو کے پھیلاؤ کے مرحلے میں ہے اور درجۂ حرارت میں کمی کے ساتھ کیسز میں اضافہ متوقع ہے، انفلوئنزا عموماً عمر کے دونوں سِروں پر موجود افراد یعنی بچوں اور بزرگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے، بچے ترسیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر شاذ و نادر ہی شدید بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، جبکہ بزرگ افراد، خصوصاً وہ جنہیں پہلے سے دیگر امراض لاحق ہوں، پیچیدگیوں کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں اور انہیں اسپتال میں علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ماہرینِ صحت نے ملک کے کئی حصوں میں چھائی گہری دھند اور سردی کو وائرس کے پھیلاؤ کیلئے سازگار ماحول قرار دیا ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہجوم والی جگہوں پر ماسک کا استعمال کیا جائے، بار بار ہاتھ دھوئے جائیں اور فلو جیسی علامات رکھنے والے افراد سے قریبی رابطے سے گریز کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خطرات، ہمسایہ ممالک کل سر جوڑیں گے