عالمی یومِ ذیابیطس کے حوالے سےلاہورجنرل ہسپتال میں آگاہی سیمینار

ذیابیطس سے بچاؤ کیلئے طرز زندگی میں تبدیلی ناگزیر ہے،پرنسپل پروفیسر فاروق افضل اوردیگر کاخطاب

Nov 12, 2025 | 15:58:PM
عالمی یومِ ذیابیطس کے حوالے سےلاہورجنرل ہسپتال میں آگاہی سیمینار
کیپشن: پروفیسر فاروق افضل سیمینارسے خطاب کررہے ہیں
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)عالمی یومِ ذیابیطس 2025 کے موقع پرلاہورجنرل ہسپتال میں  آگاہی سیمینارکاانعقادکیاگیا۔

اس سال کاموضوع ’’ذیابیطس کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کیجیے”اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش ہی اس مرض کے خلاف مؤثر ہتھیار ہیں،اس موقع پر شہریوں میں ذیابیطس سے بچاؤ اور علاج کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے ماہرینِ طب نے مفید رہنمائی فراہم کی۔
پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج و لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے اس موقع پر اپنے لیکچرمیں کہا کہ ذیابیطس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین قومی مسئلہ ہے، خون کے ایک قطرے سے اس کی بروقت تشخیص ممکن ہے جبکہ تاخیر سے علاج پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، اس مرض سے بچاؤ کے لیے ہمیں اپنے طرزِ زندگی میں فوری تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل  کے مطابق فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور غیر متوازن غذائی عادات ذیابیطس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے عوامی شعور ناگزیر ہے۔    
تقریب سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ لاہورجنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، اسسٹنٹ پروفیسر میڈیسن ڈاکٹر محمد مقصود، گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور ڈاکٹر انعم بتول نے بھی خطاب کیا۔
ایم ایس جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ بچوں میں ذیابیطس کا بڑھتا ہوا رجحان لمحہ فکریہ ہے، جدید طرزِ زندگی، موبائل اور ٹی وی کے بے جا استعمال نے نئی نسل کو غیر فعال بنا دیا ہے، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی غذا میں توازن اور جسمانی سرگرمیوں میں تسلسل پیدا کریں۔
اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مقصود نے کہا کہ انسولین ذیابیطیس کے علاج کا بنیادی ستون ہےاور اس کے درست استعمال سے مریض دل، گردوں، نظر اور اعصاب کی پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں، ذیابیطیس کے مریضوں کو باقاعدگی سے شوگر چیک کرنی چاہیے، متوازن غذا اور روزانہ ورزش کو معمول بنانا چاہیے۔
گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لیلیٰ شفیق نے کہا کہ خواتین خصوصاً دورانِ حمل بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کے باقاعدہ ٹیسٹ کروائیں کیونکہ گیسٹیشنل ذیابیطس ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حاملہ خواتین کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق غذا اور طرزِ زندگی اپنانا چاہیے۔
ڈاکٹر انعم بتول نے کہا کہ والدین کو بچوں میں ذیابیطس کی علامات جیسے بار بار پیاس لگنا، زیادہ پیشاب آنا، وزن میں کمی یا تھکن کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو۔
پروفیسر فاروق افضل نے کہا کہ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (IDF) کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 589 ملین افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں اور 2045 تک یہ تعداد 853 ملین تک پہنچنے کا خدشہ ہے، پاکستان میں ذیابیطس کی شرح عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے جہاں بالغ آبادی کا تقریباً 31.4 فیصد یعنی 3 کروڑ 45 لاکھ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں، جبکہ بڑی تعداد کو ابھی تک تشخیص نہیں ہو سکی،اس بیماری کا پھیلاؤ صرف طبی نہیں بلکہ سماجی و معاشی مسئلہ بھی ہے اس سے نمٹنے کے لیے طبی ماہرین، تعلیمی ادارے، میڈیا اور عوام کو مل کر آگاہی، ابتدائی تشخیص اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء میں آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے جن پر صحت مند طرزِ زندگی اپنانے، باقاعدہ ورزش کرنے اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کے پیغامات درج تھے۔