بانی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، پھر فوٹوسیشن کے لئے آپ کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، بیرسٹرگوہر

Mar 04, 2026 | 17:47:PM
 بانی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، پھر فوٹوسیشن کے لئے آپ کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، بیرسٹرگوہر
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)   پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے آج مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہر قومی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کے  حوالے سے  کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں ہونے دی جارہی ، ان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی جارہی ، ذاتی معالجین سے معائنہ نہیں کروایا جارہا۔ آپ کا رویہ انتہائی سخت ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ فوٹو سیشن کے لیے آپ کے ساتھ آکر بیٹھ جائیں۔ ایسا نہیں ہوگا۔

بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کیں اور کہا نینشل سیکورٹی پر ہم نے اصولی موقف اپنایا ہے کہ پارلیمنٹ میں بریفننگ دی جائے۔

 چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا، ہم چاہ رہے تھے کہ افغانستان اور ایران امریکہ کشیدگی پر بریفننگ لیں لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کے جوائنٹ سیشن میں۔  کب تک ہم ان کے ساتھ بیٹھتے رہیں گے۔ جب ہمیں اہمیت ہی نہیں دیتے ، ہماری پارلیمان میں موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے ۔

بیرسٹر گوہر نے کہا، بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں ہونے دی جارہی۔ ان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی جارہی۔ ذاتی معالجین سے معائنہ نہیں کروایا جارہا۔ آپ کا رویہ انتہائی سخت ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ فوٹو سیشن کے لیے آپ کے ساتھ آکر بیٹھ جائیں۔ ایسا نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیئے: طالبان ریجیم کے خلاف آپریشن جب تک ٹارگٹ حاصل نہیں کرلیتے،جاری رہے گا ، ڈاکٹرطارق فضل 

بیرسٹر گوہر نے کہا،  مولانا فضل الرحمان نے کل (قومی اسمبلی میں)میری نشست پر آکر وزیراعظم کی بریفنگ میں شرکت کا پیغام دیا تھا ۔ میں ان کا مشکور ہوں ان کی رائے قابل احترام ہے ، ہم نے یہ معاملہ اپنی سیاسی کمیٹی میں رکھا ہمارے کچھ تحفظات تھے اور ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا،  ہم نے قومی سلامتی کے مسئلے پر ہمیشہ ملک کا ساتھ دیا ۔ پاک بھارت جنگ ہو،۔پاک افغانستان کشیدگی ہو یا ایران امریکہ تنازع ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہوئے ہمارے بیانات آن رکارڈ موجود ہیں۔ پاک فوج ہماری ہے یہ ملک ہمارا ہے ، فوج قربانیاں دے رہی ہے ہم اس کو سلام پیش کرتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا،  افغانستان سے جو دہشتگردی ہورہی ہے ان کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملی چاہیے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔ دہشتگردوں کو پیچھا کرکے ان کومنطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے مزاکرات کا آپشن بھی کھلا رکھنا چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیئے:   سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو اہم معاملات پر اعتماد میں لینے کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے، اعظم نذیر تارڑ 

بیرسٹر گوہر نے کہا،  حکومت جو " اچھا جی " جیسی ویڈیوز بنوا رہی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین نہیں استعمال ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ہم حکومت کے ساتھ  تعاون کرتے آئے ہیں لیکن یہ ہمیں ہمارے لیڈر سے نہیں ملنے دے رہے۔ ہم آج اپنے لیڈر کی وجہ سے اس اسمبلی میں ہیں۔  اپنے کو توڑ کر آپ دنیا میں بلاک نہیں بنا سکتے ۔  اپنوں کو توڑ کر آپ لوگوں کو نہیں جوڑ سکتے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا، ہمارا جائز مطالبہ تھا کہ پارلیمان کو مضبوط کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر بریفننگ دی جاتی ۔ دونوں ایوانوں کو نمائندوں کو مدعو کیا جاتا اس سے اس ہاؤس کی توقیر میں اضافہ ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا،  ہم سیاسی جماعت ہیں ہم سوشل میڈیا کے دباؤ پر فیصلے نہیں کرتے۔ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہے۔لیکن ہم صرف آپ کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے آپ کے ساتھ فوٹو سیشن کے لیے نہیں بیٹھ سکتے۔ 3 کڑوڑ سے زیادہ ووٹ ہم نے لیے ہیں 300 سے زائد ہمارے پارلیمنٹرین ہیں۔ ہمیں اگر آپ آئیسولیٹ کریں گے تو آپ خود ہی فوٹو سیشن کرلو ہم الگ ہی رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے:  سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین مؤخر کردی گئی