طالبان ریجیم کے خلاف آپریشن جب تک ٹارگٹ حاصل نہیں کرلیتے،جاری رہے گا ، ڈاکٹرطارق فضل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جب سے افغان طالبان رجیم آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کے. نتیجے 8 ہزار سے زائد شہادتیں ہوئیں۔ اب ہم طالبان ریجیم کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں، جب تک ٹارگٹ حاصل نہیں کرلیتے آپریشن جاری رہے گا ۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، آج ایک انتہائی اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔
افغانستان اور ایران کے حوالے سے جو خطے کی صورتحال ہے اس پر بریفنگ دی گئی، تمام پارٹیوں کے سربراہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لینا، ان کی رائے لینا یہ وزیراعظم کا اچھا فیصلہ ہے،۔ آج دفتر خارجہ نے بریفنگ دی ہے، اس کے بعد وزیرخارجہ نے خود بھی بریفنگ دی ہے۔
پی ٹی آئی کو پاکستان سے زیادہ بانی کی فکر ہے
ایک صحافی نے بریفنگ میں پی ٹی آئی کے شریک نہ ہونے کے متعلق سوال کیا تو ڈاکٹر طارق فضل نے کہا ، ہم چاہتے نہیں تھے کہ وہ بائیکاٹ کریں۔ کل میں اور رانا ثناللہ وزیراعظم کی ہدایت پر اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرنے آئے تھ۔ آج کے اجلاس کے حوالے سے ہم نے انہیں باقاعدہ دعوت دی تھی۔
ہماری خواہش تھی کہ اپوزیشن اس میں اپنا اِن پٹ دیتی۔ لیکن ڈاکتر طارق فضل چوہدری نے کہا اپوزیشن کو پاکستان کے مسائل سے زیادہ بانی چئیرمین کی فکر ہے۔ اس لئے سیاسی کمیٹی کی میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ پہلے عمران خان کی بات کریں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا، اس وقت جو حالات چل رہے ہیں ہمیں اس کا مل کر حل نکالنا ہے۔
افغان طالبان ریجیم کے متعلق
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ ہم نے تو انڈیا کے ساتھ بھی کبھی جارحیت کی بات نہیں کی۔
ہم نے خود پر حملے برداشت کیے لیکن پھر بھی امن کی بات کی۔ انڈیا کی طرف سے جو جارحیت مسلط ہوئی 6 اور 7 مئی کو اسکا جواب 10 مئی کو پاکستان نے دیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا، ہماری ہمدردیاں ہمیشہ افغانیوں کے ساتھ رہیں لیکن جب سے افغان طالبان رجیم آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کے. نتیجے 8 ہزار سے زائد شہادتیں ہوئی۔
طارق فضل چوہدری نے یاد دلایا کہ خطے میں امن کے حوالے سے ہمیشہ سب سے بلند اور توانا آواز پاکستان کی رہی۔ لیکن ہم پر جب بھی جارحیت مسلط کی گئی اس کا جواب دیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے یاد دلایا کہ افغانستان کے لئے پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں۔ ہم نے مہاجرین کی یہاں مہمان نوازی کی ۔ ان کے دوحا قطر میں ساتھ مذاکرات ہوئے۔وہ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ ان کے ساتھ ترکیہ میں مذاکرات ہوئے، کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
انہوں بے بتایا کہ اب ہم طالبان ریجیم کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر آپریشن کے تحت کاروائیاں ہوئی ہیں ۔ جب تک ٹارگٹ حاصل نہیں کرلیتے آپریشن جاری رہے گا۔
قومی اسمبلی مین ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی اہم سرگرمیاں
قومی اسمبلی کا اجلاس آج (4 مارچ 2026) کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس اجلاس میں اہم کردار ادا کیا اور ایوان سے خطاب بھی کیا۔
آج کے اجلاس میں ان کی گفتگو اور اہم سرگرمیاں درج ذیل ہیں:
ورچوئل ایسٹس بل (Virtual Assets Bill)
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیر خزانہ کی جانب سے ورچوئل ایسٹس بل 2026 ایوان میں پیش کیا، جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ یہ بل پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے ایک اتھارٹی قائم کرنے کے حوالے سے ہے۔
ایران پر گفتگو کے لئے رولز کی معطلی کی درخواست
اجلاس کے آغاز پر انہوں نے اسپیکر ایاز صادق سے درخواست کی کہ "پرائیویٹ ممبرز ڈے" کے ایجنڈے کو معطل کیا جائے تاکہ ایران پر حالیہ حملوں اور علاقائی سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بحث کی جا سکے۔
علاقائی سیکیورٹی پر بحث
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی تحریک پر ایوان نے 98 نکاتی ایجنڈے کو مؤخر کر کے مشرق وسطیٰ کے بحران اور ایران و اسرائیل کی کشیدگی پر عام بحث کا آغاز کیا۔
ان کیمرہ بریفنگ: ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پارلیمانی لیڈرز کی اس اہم ان کیمرہ بریفنگ میں بھی شرکت کی جو آج وزیر اعظم ہاؤس میں علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے طلب کی گئی تھی۔
قومی اسمبلی کا یہ اجلاس آج سہ پہر 3 بجے شروع ہوا جس میں قانون سازی کے ساتھ ساتھ قومی اہمیت کے دیگر معاملات بھی زیر بحث لائے گئے۔
یہ بھی پڑھیئے: صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوینٹی رینکنگ میں فل سالٹ سے پوزیشن چھین لی، ابھیشک کو خطرہ لاحق
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ:آج کا اجلاس بہت اہم تھا لیکن ہمیں بولنے نہیں دیا گیا:فاروق ستار