چیمپئینز لیگ میں پیرس سینٹ جرمیں کی فتح؛ پیرس میں فساد پھوٹ پڑا، ایک ہلاک، سینکڑوں گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) چیمپئینز لیگ فٹ بال ٹورنامنٹ کی ٹرافی پیرس سینٹ جرمیں کے جیت لینے کے بعد پیرس شہر میں فساد پھوٹ پڑا، پولیس کو سینکڑوں افراد کو گرفتار کرنا پڑ گا۔ تشدد کے واقعات میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
یورپ میں فٹ بال کے سب سے برے ٹورنامنٹ چیمپئینز لیگ کا فائنل ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ میں ہوا ۔ سخت مقابلہ کے بعد ایکسٹرا ٹائم میں بھی پی ایس جی اور آرسنل ایک ایک گول کے ساتھ برابر تھیں۔ پینلٹی شوٹ آؤٹ میں پی ایس جی نے میچ ایک گول سے جیت لیا۔ چیمپئینز لیگ میں سینٹ جرمیں کی یہ دوسری فتح تھی۔ فائنل میچ ختم ہوا تو پیرس کی سڑکوں پر پی ایس جی کے فین خوشی منانے کے لئے جمع ہونے لگے۔ کئی گھنٹے اچھے گزرے لیکن بعد میں بعض جگہوں پر فساد شروع ہو گیا۔
پی ایس جی کی جیت کے بعد پیرس کی سڑکوں پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ تھی۔ حکام نے مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا ہے
پولیس کے مطابق ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کے ہزاروں مداح جیت کا جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ بعض علاقوں میں توڑ پھوڑ ہوئی اور پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ شرارتی لوگ فضا میں چھوڑنے والی آتش بازی سامنے کھڑے پولیس اہلکاروں پر چلاتے رہے جس سے پولیس اہلکاروں میں افراتفری پھیلی رہی۔
چیمپئنز لیگ کے فائنل میں شاندار کامیابی کے بعد ابتدا میں تو شہر میں جشن کا سماں نظر آ رہا تھا لیکن رات ڈھنے کے ساتھ بعض علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد مشتعل افراد ن کے چھوٹے گروہوں نے مختلف مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گاڑیوں اور کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا ۔ اس کے بعد پولیس کو حالات قابو میں رکھنے کے لیے بھرپور کارروائی کرنا پڑی۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمزپر ایران کا ٹول ٹیکس قابل قبول نہیں، فرانس کے وزیرخارجہ کا بیان
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق ہنگامہ آرائی اور بدامنی کے واقعات کے دوران آٹھ سو سے زیادہ لوگ گرفتار ہوئے تاہم بعد میں چار سو سے زیادہ لو چھوڑ دیا گیا اور 416 سے زائد افراد کو حراست میں رکھا گیا۔
چیمپئینز لیگ کے فائنل کے موقع پر پولیس کو پہلے ہی ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں 22 ہزار جبکہ دارالحکومت پیرس میں 8 ہزار پولیس اہلکار الرٹ تھے۔
پیرس پولیس حکے مطابق جھڑپوں کے دوران کم از کم ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ چھ گاڑیوں اور دو تجارتی مراکز کو نقصان پہنچا۔
بعض شائقین نے پیرس کی مشہور رنگ روڈ (پیریفیرک) پر بھی دھاوا بول دیا جس کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہوا اور کئی مقامات پر فلیئرز جلائے گئے۔
صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے متعدد ٹرام سروسز معطل کئی میٹرو اسٹیشن بند اور بعض علاقوں میں بس سروس بھی روک دی گئی۔
پی ایس جی کی تاریخی کامیابی نے جہاں لاکھوں مداحوں کو خوشی دی وہیں جشن کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے انتظامیہ کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دیں۔
شہر کے مختلف حصوں میں رات بھر سیکیورٹی فورسز اور مشتعل افراد کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی، جبکہ حکام نے مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکہ کا جنگ بند کرنے کے معاہدہ کی طرف زیادہ واضح قدم؛ افواہیں کیا ہیں اور حقائق کیا ہیں؟