سندھ میں کسی بڑے شہر کے ڈوبنے کا خدشہ نہیں: صوبائی وزیر شرجیل میمن
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عاجز جمالی)سندھ میں ممکنہ سپر فلڈ کے خدشے کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے ہنگامی اقدامات کر لیے ہیں، گڈو بیراج میں نو لاکھ کیوسک تک کا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے۔
صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلیٰ سندھ کی ہدایت پر خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے، پانچ سو اکیاون ریلیف کیمپ بھی لگادیئے ہیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وزیرِاعلیٰ سندھ کی ہدایت پر خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔
جس میں چوبیس گھنٹے ایمرجنسی نمبرز پر نمائندے موجود ہوں گے،متعلقہ محکموں کے افسران اور ترجمان سندھ حکومت ہر وقت موجود رہیں گے۔
میڈیا کو ہر تین گھنٹے بعد باضابطہ ہینڈ آؤٹ جاری کیا جائے گا ، تاکہ افواہوں اور غلط خبروں سے بچا جا سکے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ سیلاب آنے کی صورت میں سولہ لاکھ سے زائد افراد کے انخلا کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
تین اور چار اپریل کو نو لاکھ کیوسک تک کا ریلا گڈو بیراج میں داخل ہو سکتا ہے، اس وقت گڈو بیراج میں تقریباً چار لاکھ کیوسک پانی موجود ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ کے کسی بڑے شہر کو ڈوبنے کا خدشہ نہیں، نہ ہی دریا کو کٹ لگانے کی ضرورت ہے۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کل متوقع متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔
سندھ حکومت کے پاس فنڈز کی کوئی کمی نہیں، تمام وزراء اور افسران متعلقہ علاقوں میں موجود ہیں، اس سیلاب کو سپر فلڈ تصور کر کے مکمل تیاری کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔