اومی کرون نے دنیا ہلا کر رکھ دی۔۔سعودی عرب نے مزید 7 ممالک کی پروازوں پر پابندی عائد کردی۔۔دیگر کئی ممالک کے بھی ہنگامی اقدامات

Nov 29, 2021 | 20:47:PM
 اومی کرون۔دنیا۔پروازیں۔پابندی۔امریکا۔جاپان
کیپشن: وائرس کی فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (نیوز ایجنسی)کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ (اومی کرون) پوری دنیا میں پھیل رہا ہے جس کے بعد متعدد ممالک نے اپنی سرحدیں بند کردی ہیں۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے مزید 7 ممالک سے پروازیں معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ایک بیان میں وزارت کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ فیصلہ کئی ممالک میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کی تازہ ترین وبا کی وجہ سے کیا گیا ہے۔سعودی حکومت نے جن ممالک سے پروازیں معطل کی ہیں ان میں جمہوریہ ملاوی، جمہوریہ زیمبیا، جمہوریہ مڈغاسکر، جمہوریہ انگولا، جمہوریہ سیشلز، جمہوریہ ماریشس اورجمہوریہ کوموروس شامل ہیں۔عرب میڈیا نے سرکاری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ مذکورہ ممالک سے ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ آنے والے غیر ملکی مسافروں کو سعودی عرب میں داخلے کی اجازت نہیں ہے تاہم وہ سعودی حکام کی طرف سے اجازت یافتہ دیگر ممالک میں 14 دن قرنطینہ کرکے سعودیہ آسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔وینا ملک کی 7 سال بعد شوبز کی دنیا میں دھواں دار انٹری، پہلے فوٹو شوٹ نے دھوم مچا دی،سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

 محققین نے کورونا کے مقابلے میں اومیکرون وائرس کے خطرناک ہونے یا نہ ہونے سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقہ کے محققین نے اومیکرون کی شناخت چند روز پہلے کی تھی اور ابھی تک اس کے بارے میں بہت کچھ معلومات نہیں ہیں۔اس بارے میں بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ وائرس زیادہ متعدی ہے۔اسرائیل نے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا اور مراکش نے کہا کہ وہ پیر سے شروع ہونے والی تمام آنے والی پروازوں کو دو ہفتوں کےلئے معطل کر دے گا۔ہانگ کانگ، یورپ سے شمالی امریکا تک کئی جگہوں پر سائنسدانوں نے اس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔نیدرلینڈز میں اومیکرون کے 13، کینیڈا اور آسٹریلیا میں دو دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرانسس کولنز نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک کوئی ایسا ڈیٹا نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ نئی قسم کووڈ 19 کی پچھلی اقسام سے زیادہ سنگین بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ زیادہ متعدی ہے، جب آپ دیکھتے ہیں کہ یہ جنوبی افریقا کے متعدد اضلاع میں کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ویرینٹ کے ایک شخص سے دوسرے میں پھیلنے کا امکان واضح ہے۔کولنز نے زور دیا کہ ویکسینیشن، بوسٹر شاٹس اور ماسک پہننے جیسے اقدامات کے عمل کو دگنا کردیا جائے، ’میں جانتا ہوں، امریکی شہری ان باتوں کو سن کر تھک چکے ہیں لیکن وائرس ہم سے نہیں تھکا ہے۔ڈچ پبلک ہیلتھ اتھارٹی نے تصدیق کی کہ جنوبی افریقا سے جمعے کو پہنچنے والے 13 افراد میں اومیکرون کی تشخیص ہوئی ہے۔وہ ان 61 افراد میں شامل تھے جن کا پرواز پر پابندی کے نفاذ سے قبل ایمسٹرڈیم کے شیفول ہوائی اڈے پر آخری دو پروازوں پر پہنچنے کے بعد وائرس کا مثبت ٹیسٹ آیا تھا۔کینیڈا کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے دو کیسز اونٹاریو میں پائے گئے جب دو افراد جنہوں نے حال ہی میں نائیجیریا سے سفر کیا تھا۔آسٹریلیا میں حکام نے کہا کہ افریقہ سے سڈنی پہنچنے والے دو مسافر نئے قسم وائرس کا شکار ہوئے ہیں، افریقی ممالک سے آنے والوں کو اب آمد پر ہوٹل میں قرنطینہ کرنے کی ضرورت ہے۔دو جرمن ریاستوں میں ہفتے کے آخر میں واپس آنے والے مسافروں میں کل 3 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔اسرائیل نے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے اور بیرون ملک سے آنے والے تمام اسرائیلیوں کے لیے قرنطینہ کو لازمی قرار دیا ہے۔

 جاپانی وزیر صحت نے کہا ہے کہ جاپان نے بدترین حالات سے بچنے کےلئے سرحدیں بند کردی ہیں ۔جاپان کے وزیر صحت شیگیوکی گوتو نے کہا ہے کہ اومیکرون سے بچنے کیلئے ملک بھر ٹیسٹ کئے جارہے ہیں تاکہ نیبیا سے آنے والے مسافروں میں اس وائرس کی منتقلی کی تشخیص کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بدترین حالات سے بچنے کےلئے اپنے ملک کی سرحدیں بند کردی ہیں ۔

 یہ بھی پڑھیں۔ایک ارب ویوز۔۔شردھا اور ٹائیگر شراف کےہٹ گانے’’چھم چھم‘‘نے ریکارڈ قائم کردیا