لاہور ہائیکورٹ کا سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق بڑا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق بڑا فیصلہ سناتے ہوئے پروموشن پالیسی 2010 کی شق 21 کو قانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے حکومتی پالیسی کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ایل پی آر پر موجود افسران کو ترقی کیلئے زیر غور نہ لانا غیر قانونی نہیں، ترقی کسی سرکاری ملازم کا بنیادی حق نہیں ،قانون کے تحت صرف ترقی کیلئے زیر غور آنے کا حق حاصل ہوتا ہے ۔
فیصلے میں کہاگیاہے کہ ایل پی آر پر جانے والا افسر عملی طور پر فعال سروس سے الگ ہو جاتا ہے،وہ اعلیٰ عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا، ترقی کیلئے اہلیت اور شرائط کا تعین حکومت پالیسی کے ذریعے کر سکتی ہے۔
جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نےسرکاری ملازم حفیظ الرحمان کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا،عدالت نےترقی سے متعلق دائر درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کیا،سات صفحات پر مشتمل فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔
درخواست گزار نے پروموشن پالیسی 2010 کی شق 21 کوچیلنج کیا تھا،درخواست گزار زرعی محکمہ میں سینئر سائنٹسٹ کے عہدے پر تعینات تھااور ریٹائرمنٹ سے قبل ایل پی آر پر چلا گیا تھا،درخواست گزار پرنسپل سائنٹسٹ گریڈ 19 کی ترقی کا امیدوار تھااورترقی کیلئے پرنسپل سائنٹسٹ گریڈ 19 کی آسامیوں کا عمل شروع ہوا تھا،صوبائی سلیکشن بورڈ نے 14 مارچ 2024 کے اجلاس میں درخواست گزار کا کیس مسترد کیاجس کے بعددرخواست گزار نےعدالت سے ایل پی آر پر ہونے کے باوجود ترقی کیلئے زیر غور لانے کا حکم دینے کی استدعا کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹرفضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت
فیصلے کے مطابق ایل پی آر اختیار کرنا درخواست گزار کا اپنا فیصلہ تھا ،ایل پی آر لینے کے بعد ترقی کا مطالبہ قانونی طور پر درست نہیں، صوبائی سلیکشن بورڈ نے پالیسی کے مطابق درخواست گزار کا کیس مسترد کیا، عدالت عالیہ نے صوبائی سلیکشن بورڈ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔