ڈاکٹرفضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت

 میرے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں نہ میں کسی حیثیت میں اس کیس کا حصہ ہوں،حمزہ علی عباسی

Mar 28, 2026 | 10:23:AM
ڈاکٹرفضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ڈاکٹرفضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی۔
ذرائع کےمطابق فضیلہ عباسی نے والدہ اوراداکاربھائی حمزہ علی عباسی کے جوائنٹ اکاؤنٹ سے ٹرانزیکشنز کیں،لاکھوں ڈالرز اور درہم بیرون ملک منتقل کیے گئے جس کاایف بی آر کو پتہ بھی نہ چلا،صرف 3 بینک اکاؤنٹس کے ریٹرنز جمع کرائے لیکن ان میں بھی بےضابطگیاں نکلیں۔
ذرائع کے مطابق فضیلہ عباسی لاکھوں ڈالر کی تفصیلات یا دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہیں،ایف آئی اے کو دی گئی 2 لاکھ ڈالر کی رسیدیں ڈرائیور اور دوستوں کے نام پر تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: عماد وسیم کی اہلیہ نائلہ راجہ نے ثانیہ اشفاق کے الزامات کا جواب دیدیا
ایف آئی اےکاکہنا ہےکہ کوئی رسید یاثبوت نہ ہونےکی وجہ سےملزمہ کی وضاحت قابل تسلیم نہیں، ٹیکس گوشواروں میں رقم ظاہرنہ کرنےکی وجہ سےمؤقف قانوناً ناقابل قبول ہے،اداروں کاملزمہ کےظاہر کردہ پیشے یا آمدنی سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں۔

دوسری طرف معروف اداکارحمزہ علی عباسی نے بھی اپنی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی سے متعلق تنازع پرردعمل دے دیاہے۔
حمزہ علی عباسی نےانسٹاگرام پر شیئرکئے گئے اپنے بیان میں کہاہے کہ انکا اس کیس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے،کچھ میڈیا کوریج سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ میرا اس کیس سے کسی نہ کسی طرح سے تعلق ہے یا میں اس میں شامل ہوں جو درست نہیں ہے۔ میرے خلاف کسی بھی ادارے کی جانب سے کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں، نہ ہی میں کسی حیثیت میں اس کیس کا حصہ ہوں۔
انہوں نےمزیدکہا کہ انکی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی ایک نہایت کامیاب اور پروفیشنل ہیں جن کا کیریئر شاندار رہا ہے، اور میں اس مشکل وقت میں انکے ساتھ کھڑا ہوں،مجھے انکی دیانت داری پرمکمل اعتماد ہے،میرا ماننا ہےکہ انکا مؤقف بھی سنا جانا چاہیے،انکے پیشہ ورانہ اورقانونی معاملات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے،مجھے یقین ہےکہ ہمارے ادارے انصاف کو یقینی بنائیں گے اور سچ سامنے آئے گا۔
حکام کے مطابق ایف آئی اے نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف دو علیحدہ مقدمات درج کیےہیں،ایک مقدمہ کمرشل بینکنگ سرکل کےتحت مبینہ منی لانڈرنگ سےمتعلق ہےجبکہ دوسرا بغیر رجسٹریشن کلینک چلانے کے الزامات پر مبنی ہے۔