جنوبی کوریا میں سابق خاتونِ اول کو رشوت لینے کے جرم میں قید کی سزا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) جنوبی کوریا کے سابق صدرکی بیگم کو رشوت لینے کے جرم میں قید کی سزا ہو گئی۔ سابق صدر کو پہلے ہی پانچ سال قید کی سزا ہو چی ہے اور بغاوت کے مقدمہ میں انہیں سخت ترین سزا ہونےکا امکان ہے۔
کورین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں سابق کم کیون ہی کو رشوت لینے کے جرم میں قید کی سزا ہوگئی ہے۔
جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ایک عدالت نے سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو رشوت لینے کے جرم میں ایک سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنا دی۔ ایک دوسری عدالت میں انہین ایک اور الزام ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا گیا۔
سول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے کم کیون کو سٹاک / شئیرز کی قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سیاسی فنڈز کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استعمال کرنےکے الزامات سے بری کر دیا۔
سابق خاتونِ اول کے شوہراور سابق صدر یون سک یول پہلے ہی 2024 میں مارشل لا کا اعلان س کر کے آئین کو سبوتاژ کرنے کے اقدامات کے جرم میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں شدید گرمی، کئی علاقوں میں ٹمپریچر کے ریکارڈ ٹوٹ گئے
16 جنوری 2026 کو سیول کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو 2024 کے ناکام مارشل لاء کے دوران انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری دستاویزات میں ردوبدل کرنے کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ ان کے خلاف جاری متعدد مقدمات میں سے پہلا فیصلہ ہے۔ان کے خلاف بغاوت کے کیس کا فیصلہ فروری 2026 میں متوقع ہے۔
سابق وزیراعظم کو سخت سزا کی مثال
اس سے پہلے جنوبی کوریا کے سابق وزیراعظم ہان ڈک سو کو بغاوت کے جرم میں 23 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ سابق صدر کو بھی اسی طرح کی سخت سزا ہو سکتی ہے۔
جنوبی کوریا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی سابق صدر کے ساتھ اس کی بیوی کو بھی قید کی سزا ہو گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد سابق خاتونِ اول کم کیون نے اپنے بیان میں کہا کہ میں عدالت کے فیصلے کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتی ہوں ، میں ایک بار پھر سب سے دلی معذرت کرتی ہوں کہ میری وجہ سے لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ اس سے قبل تمام الزامات کی تردید کر چکی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایڈووکیٹ افشاں سعید مسلم لیگ ن میں شامل