جنوبی کوریا کی کرنسی نے دو سال کا ریکارڈ توڑ دیا، ڈالر کے مقابلے میں بڑی چھلانگ
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک )جنوبی کوریا کی کرنسی وون پیر کو تقریباً دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے پیچھے سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں تیزی اور ملک کے مرکزی اسٹاک انڈیکس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا مسلسل بہاؤ اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
وون کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں ایک موقع پر 1.3 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ 1,334.70 وون فی ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ اکتوبر 2024 کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں وون کی مضبوط ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل دلچسپی نے مقامی کرنسی کو اضافی سہارا دیا ہے۔ بالخصوص سیمی کنڈکٹر اسٹاکس میں تیزی نے مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو مضبوط کیا۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کہاں تک جائیں گی؟ہولناک پیشگوئی سامنے آگئی
کرنسی کی رفتار ناپنے والے ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس (RSI) نے بھی غیر معمولی سطح دکھائی اور یہ 2013 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حالیہ عرصے میں وون کی قدر میں اضافہ انتہائی تیز رفتار رہا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار اس کی موجودہ ریلی کو خاصی توجہ سے دیکھ رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور ٹیکنالوجی، بالخصوص سیمی کنڈکٹر شعبے کے حصص میں مضبوط کارکردگی نے ملکی اثاثوں کی طلب میں اضافہ کیا ہے، جس کا مثبت اثر وون پر بھی پڑا۔
یوں جنوبی کوریا کی کرنسی نے تقریباً دو سال بعد ڈالر کے مقابلے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جبکہ وون کی غیر معمولی تیزی نے عالمی کرنسی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔