شوبز کے وہ ستارے جو 2025 میں ہمیشہ کیلئے بجھ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نومبر) ہر سال کی طرح اس سال بھی بہت سے لوگ ابھر کر زندگی کے بہت سے شعبوں میں نمایاں ہوئے اور بہت سے نمایاں لوگ وفات بھی پا گئے۔ پاکستان کے شو بز کے لئے یہ سال اس لحاظ سے اداسی بھرا رہا کہ نئی شخصیات تو کم ہی سامنے آئیں لیکن ہمارے شوبِز کے کئی ہر دلعزیز ستارے ہمیشہ کے لئے بجھ گئے۔
سال 2025میں شوبز کی دنیا میں تلخ اور شیری یادیں دونوں شامل رہیں۔ کچھ اداکاروں کے لیے یہ سال کامیابیاں لایا، وہیں کئی شخصیات ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئیں۔
اس سال پاکستانی شوبز انڈسٹری کے کئی ستارے اس دنیا سے رخصت ہوئے جن میں دو ایسے تھے جنہوں نے اس انڈسٹری کے لوگوں کو گہرے صدمہ سے دوچار کیا۔
ڈرامہ انڈسٹری کی اداکارہ عائشہ خان کی لاش 20جون 2025کو کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع فلیٹ سے ملی۔ یہ اداکارہ کئی ہفتے پہلے فوت ہو چکی تھیں اور کسی کو خبر تک نہین تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ کئی روز پرانی لاش برآمد ہوئی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حقائق کو کھوجنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا۔
اس کے بعد 8 جولائی کو کراچی ہی کے علاقے ڈیفنس میں ایک فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی ناقابل شناخت لاش ملی، میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کا انتقال 7 اکتوبر کو ہوا تھا اور لاش تقریبا 9 ماہ پرانی تھی، ان کی تدفین 11 جولائی کو آبائی شہر لاہور میں کی گئی، پولیس نے واقعے کی تحقیقات کیں۔ نعش اس قدر بوسیدہ ہو چکی تھی کہ اس کے کیمیائی تجزیہ سے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا ہوا ہو گا جس سے یہ جواں سال اداکارہ فوت ہوئیں۔ پولیس نے کئی ہفتے کوشش کرنے کے بعد اداکارہ حمیرا اصغر کی موت کو طبعی قرار دیا۔
سال 2025میں سب سے پہلے انتقال کر جانے والے شوبز کے ستارے کامیڈین جاوید کوڈو تھے۔ وہ لاہور میں مقیم تھے، اپریل 2025 میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
3 مئی کو پاکستانی فلم سٹار اور سپر ماڈل اداکارہ ایمان علی کی والدہ اور اداکار عابد علی کی اہلیہ مشہور اداکارہ حمیرا عابد بھی انتقال کر گئیں جنہوں نے پی ٹی وی کے سنہرے دور میں شوبز میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
کامیڈین اور تھیٹر، ٹی وی و فلم کے کہنہ مشق فنکار لکی ڈیئر 30 ستمبر 2025 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ 60 سالہ فنکار آٹھ ماہ سے پھیپھڑوں اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے اور میو ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
یکم ستمبر کو معروف فلم، ٹی وی اور سٹیج کے اداکار انور علی بھی طویل علالت کے باعث انتقال کر گئے جو پھیپھڑوں، گردوں، فالج اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔
13 ستمبر کو پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف اداکارعشرت عباس انتقال کرگئے۔ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے ڈراموں سے ابھرکر آگے آنے والےاداکار عشرت عباس فقیر آباد پشاور میں رہتے تھے۔
ان کے انتقال پر ساتھیوں اور مداحوں نے ان کی بھولی ہوئی یادوں کو تازہ کیا اور پھر دو دن بعد بھول گئے۔ عشرت عباس کو پی ٹی وی کے عظیم فنکاروں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا تھا۔ عشرت عباس اپنے سنہری دور میں سرکاری پی ٹی وی کا ایک جانا پہچانا چہرہ تھے، جنہیں مقبول ڈرامہ سیریلز اور اسٹیج ڈراموں میں ان کی ورسٹائل اداکاری کے لیے یاد کیا جاتا تھا۔
4نومبر 2025کو پاکستان فلم انڈسٹری کے معتبر پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر چوہدری کامران اعجاز برین ہیمرج کے باعث وفات پا گئے۔
سینئر فلم رائٹر محمد کمال پاشا بھی 3 اکتوبر 2025 کو طویل علالت کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ محمد کمال پاشا نے 300 سے زائد فلموں کے لیے سکرپٹ لکھے اور اپنے کیریئر میں معاشرتی مسائل، غربت، محبت، اخلاقی زوال اور موت جیسے موضوعات پر مبنی کہانیاں تخلیق کیں جنہیں شوبز حلقوں نے ہمیشہ یاد رکھا۔
سال 2025میں یہ تمام شخصیات شوبز انڈسٹری کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنیں اور ان کا فن، محنت اور خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اداکارہ ، ہدایتکارہ انجلین ملک نے کینسر کو شکست دیدی
جہاں بہت سے اداکار اور فنکار اس سال موت سے ہار کر ہم سے رخصت ہوئے وہیں ایک اداکارہ نے سارا سال زندگی کے لئے تنہا جنگ لڑی اور سال کے آخر میں وہ کینسر کے موذی مرض پر فتح پا گئیں۔
انجلین ملک کینسر کی تشخیص کے بعد سے ہی اپنے مداحوں کواپنی صحت سے متعلق آگاہ کرتی رہی ہیں،تاہم سال کے آخر میں انجلین نے اپنے کینسر پر فتحیاب ہونے کی خوشخبری سنائی ہے۔
انجلین ملک نےانسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ کینسر سے پاک سکین ایک فتح ہے، لیکن سفر جاری ہے۔
معروف اداکارہ نے بتایا کہ طبی طور پر کینسر سے پاک قرار دینے کے لیے صاف سکین کیلئے 2 سے 5 سال لگتے ہیں اور کبھی کبھی 10سال بھی لگ سکتے ہیں تو ہاں اب میں کینسر سے پاک ہوں۔
انجلین ملک نے مزید بتایا کہ کینسر کے دوران کچھ دن امید لاتے ہیں، کچھ خوف لاتے ہیں لیکن میں ان سب کا ہمت سے سامنا کرتی رہی، آج کے لیے شکر گزار، کل کے لیے تیار اور کبھی ہمت نہ ہارنے کا جذبہ رکھتی ہوں۔