پیٹرولیم اسٹریٹجک ریزروز کے قیام کے منصوبے پر کام شروع

 منصوبے کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ ملک میں 90 دن تک کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کا محفوظ ذخیرہ تیار کیا جائے،اس اقدام کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایندھن کی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ کو کم کرنا ہے

Apr 28, 2026 | 15:58:PM
 پیٹرولیم اسٹریٹجک ریزروز کے قیام کے منصوبے پر کام شروع
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے ملک میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز کے قیام کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔
 منصوبے کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ ملک میں 90 دن تک کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کا محفوظ ذخیرہ تیار کیا جائے،اس اقدام کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایندھن کی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں میں غیر یقینی اتار چڑھاؤ کو کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر توانائی کے بدلتے حالات اور ممکنہ سپلائی مسائل کے پیش نظر کیا گیا خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
جاری علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اوراس کا اثر پاکستان جیسے ممالک پر زیادہ پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایچ آئی وی کیسز میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا؛وفاقی وزیر صحت
نئی پالیسی کے تحت پیٹرولیم لیوی کے نظام پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مالی وسائل بڑھائے جا سکیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً 20 ارب لیٹر تیل استعمال ہوتا ہے، اگر فی لیٹر 10 روپے لیوی عائد کی جائے تو سالانہ 200 ارب روپے تک آمدن حاصل ہو سکتی ہے، آئندہ چند سالوں میں یہ رقم مزید بڑھ کر 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔