پیٹرولیم لیوی کیخلاف احتجاج، حکومت سے مذاکرات، جماعت اسلامی کا دھرنے جاری رکھنے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)جماعت اسلامی نے مطالبات پورے ہونے تک دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے تحت لیٹرولیم لیوی کے خلاف آج ملک بھر میں ہڑتال کی گئی۔ حکومتی وفد جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے منصورہ پہنچا۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔ پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی تجاویز کو سنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو گا حکومت عوام کو ریلیف دے گی۔ جماعت اسلامی کی تحریک عوامی ریلیف کے لیے ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے کمیٹی بنا دی ہے اور جماعت اسلامی بھی اس حوالے سے ایک کمیٹی بنا دے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کی وجہ سے عوام آدمی پر بوجھ پڑ رہا ہے۔ 2 ہفتوں میں مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کر لیں گے۔
مطالبات سامنے رکھتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کم از کم روٹی تو 10 روپے کی کرے۔ کسان بھی پریشان ہے اور آٹا بھی مہنگا مل رہا ہے۔ گورننس کا بھی مسئلہ ہے اس کو بھی حل کیا جائے۔
ملکی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ ہم بھی ملکی صورتحال کو سمجھتے ہیں تاہم کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کریں گے۔ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کم کی جائے اور پٹرول سستا کیا گا۔ ہمیں بار بار کہا گیا کہ دھرنے مؤخر کر دیں لیکن مطالبات پورے ہونے تک دھرنے جاری رہیں گے اور مذاکرات بھی ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ٹیکسز کا مارجن کم ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایک لیٹر پیٹرول پر مختلف ٹیکسز کی مد میں 131 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے کمیٹی بنا دی ہے اور حکومتی وفد چاہیے تو آج رات سے بھی مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سونا 11200روپے فی تولہ مہنگا؛نئی قیمت جان کرہوش اڑجائیں گے