ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ؛نتائج ایک ہفتے میں جاری، 3دن کے اندر ری چیکنگ کی سہولت ہوگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد تُرک)ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کیلئے ایم ڈی کیٹ 2025 کا امتحان آج بروز اتوار صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک منعقد کیا گیا، آفیشل آنسر کی یونیورسٹیز کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں، ایم ڈی کیٹ کے نتائج ایک ہفتے کے اندر شائع کیے جائیں گے۔ نتائج کے تین دن کے اندر ری چیکنگ کی سہولت فراہم ہوگی جبکہ یونیورسٹیاں 10 دن کے اندر تجزیاتی رپورٹ پی ایم اینڈ ڈی سی کو جمع کرائیں گی۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق 188 سرکاری و نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا عمل 28 فروری 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا، اور اس دوران نتائج و پرچے 12 ماہ تک محفوظ رکھے جائیں گے، ملک بھر میں اس اہم امتحان کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار 125 امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی تھی، ایم ڈی کیٹ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کی نگرانی میں مختلف یونیورسٹیوں کے تعاون سے منعقد ہوا، جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (ایس زیڈ اے بی ایم یو) نے اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور سعودی عرب کے شہر ریاض میں امتحانی عمل کی براہِ راست نگرانی کی۔شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے تحت 6 ہزار 229 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے جن میں سے اسلام آباد کے دو امتحانی مراکز پر 2 ہزار 645، گلگت بلتستان میں 761، آزاد کشمیر کے چار مراکز میں 2 ہزار 629 اور ریاض میں 194 پاکستانی طلبہ شامل تھے، 3 گھنٹے دورانیے کا ایم سی کیوز پر مشتمل 180نمبر کا ایم ڈی کیٹ2025 ملک بھر کے تمام مراکز پر ایک ہی وقت صبح 10 بجے شروع ہوا اور بروقت ایک بجے دوپہر مکمل ہوا، انتظامی کمزوریوں کے علاوہ مجموعی طور پر کوئی سنگین بے ضابطگی، پرچہ افشا یا نقل کی شکایات موصول نہیں ہوئیں تاہم امتحان دینے والے طلبہ کے والدین کے لئے انتظار گاہوں کے قیام کی پی ایم ڈی سی کی ہدایت کو شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباداور ملک کے مختلف مقامات کے امتحانی سینٹرز میں نظر انداز کیا گیا جس کے باعث والدین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آج ہونے والے ایم ڈی کیٹ میں نقل و دیگر منفی سرگرمیوں کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ امیدواروں کی شناخت کی تصدیق کے لیے نادرا بائیومیٹرک ویریفکیشن لازمی قرار دی گئی، یونیورسٹیز نے طلبہ کو امتحان سے متعلق ہدایات اور رہنمائی ایس ایم ایس الرٹس اور سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے فراہم کیں۔ یونیورسٹیز کے حکام کے مطابق امتحانی پرچوں کی پری ہاک منظوری پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات کے مطابق کی گئی تھی۔ وائس چانسلر ایس زیڈ اے بی ایم یو پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالق نے یونیورسٹی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ریاض میں امتحان کے کامیاب انعقاد پر تمام متعلقہ اداروں، مقامی انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں اور پاکستانی سفارتخانے ریاض کا شکریہ ادا کرتا ہوں، طلبہ کے والدین کو جو انتظار گاہوں کے حوالے سے تکلیف پہنچی ہے، آئندہ کسی امتحان میں ایسا نہیں ہو گا ، یقین دلاتا ہوں، دوسری جانب پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق ملک میں 32 امتحانی مراکز قائم کیے گئے جبکہ ملک کے 32 سنٹرز کے علاوہ ایک امتحانی سنٹر بین الاقوامی مرکز ریاض سعودی عرب میں بنایا گیا تھا، اسلام آباد میں امتحان کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (پمز) اور بحریہ یونیورسٹی میں دو مراکز قائم کیے گئے تھے، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہزاروں طلبہ نے شرکت کی، پنجاب میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تحت 12 شہروں میں امتحان ہوا، جس میں 50 ہزار 461 امیدوار شریک ہوئے، جن میں 36 ہزار 702 طالبات اور 13 ہزار 759 طلبا شامل تھے۔ امتحان کے دوران 3 ہزار 263 اسکول اساتذہ بطور نگران، جبکہ 165 سپرنٹنڈنٹس اور 347 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس فرائض انجام دے رہے تھے۔ تمام عملہ اسپیشل برانچ کلیئرنس کے بعد تعینات کیا گیا، امتحانی مراکز میں موبائل فون، اسمارٹ واچز، کیلکولیٹرز، ایئربڈز اور دیگر برقی آلات لانے پر مکمل پابندی عائد رہی۔ امتحانی مراکز میں داخلہ صبح 9 بجے بند کر دیا گیا، اس کے بعد کسی امیدوار کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تمام امیدواروں کی جامہ تلاشی، واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے جانچ کی گئی۔ امتحانی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سوالیہ پرچے صرف سرکاری گواہوں کی موجودگی میں کھولے گئے، جبکہ یونیورسٹیوں کو امیدواروں کو کاربن کاپی کے ساتھ ببل شیٹس فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔