غزہ میں ایک سامل میں پہلی بار حماس کے خلاف احتجاج 

Jun 26, 2026 | 22:53:PM
 غزہ میں ایک سامل میں پہلی بار حماس کے خلاف احتجاج 
کیپشن: غزہ میں حماس کے خلاف احتجاج کی سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز سے لی گئی ایک سکرین شوٹ۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  غزہ میں سینکڑوں افراد ایک سال میں پہلی بار حماس کے خلاف  احتجاج کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اس احتجاج کے دوران حماس کے مسلح کارکن بھی غزہ کی سڑکوں پر  حماس کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو  کنٹرول کرنے کے لیے تعینات دیکھے گئے۔
آج جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں حماس کے مسلح کارکنوں کو غزہ کی پٹی کی سڑکوں پر یوم احتجاج کے ایک حصے کے طور پر مظاہروں کو روکنے کے لیے تعینات دکھایا گیا ہے۔ اس احتجاج کی کال کئی روز پہلے دی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو فوٹیج کی تصدیق کرنا مشکل ہے اور اسے غزہ کے بڑے میڈیا اداروں نے شائع نہیں کیا ہے جہاں حماس شہریوں کو احتجاج میں حصہ لینے کے خلاف دھمکیاں دے رہی ہے۔

 ٹائمز آف اسرائیل نے وسطی غزہ کے رہائشیوں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ غزہ کی کئی آبادیوں میں آج مقامی رہائشیوں نے ھماس کے خلاف کئی روز سے اعلان کے بعد ہونے والے   متوقع احتجاج میں شرکت کی۔۔ اس دوران حماس سے وابستہ نقاب پوش مرد  حماس کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے دیر البلاح کی گلیوں میں گزشتہ چند گھنٹوں سے موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 7 کارکن مارنے کا دعویٰ 

غزہ کے رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ سٹی اور شمالی غزہ کے دیگر حصوں میں حماس مخالف مظاہروں میں بہت کم لوگوں نے حصہ لیا، جب کہ ریلیوں میں شرکت کے خلاف سوشل میڈیا پر حماس کی وارننگ کے درمیان لوگ وسطی غزہ میں گھروں میں ہی رہے۔

حماس سے وابستہ میڈیا آؤٹ لیٹس نے فوٹیج شائع کی ہے جس میں غزہ سٹی میں خالی چوراہوں کو دکھایا گیا ہے جہاں احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، حماس کی  اس فوٹیج میں آج کے احتجاج کا تمسخر اڑاتے ہوئے اسے "26 جون کا انقلاب" کے نام دیا گیا اور  "26 جون کے انقلاب کی ناکامی" کا اعلان کیا گیا تھا۔

آج بعض میڈیا آؤٹ لیٹس نے غزہ سے رپورٹ کیا کہ  حماس کی دھمکیوں کے بعد غزہ میں سیکڑوں افراد ایک سال میں پہلی بار  حتجاج کرتے ہوئے دیکھے جا  رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ سینکڑوں فلسطینی غزہ کی پٹی میں متعدد مقامات پر حماس کے خلاف مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں۔

آج کے مظاہروں کی منصوبہ بندی کئی ہفتے پہلے کی گئی تھی، جس میں حماس مخالف کارکنوں نے 26 جولائی کی آج کی تاریخ کو بڑے ٹرن آؤٹ کا وعدہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:    پاکستان کی کوشش سے مزید 22 ایرانی اہلکار رہا ہو گئے، اسحاق ڈار کا انکشاف 

لیکن جیسے ہی تاریخ قریب آئی، حماس کے کارکنان نے احتجاج میں حصہ لینے پر غور کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں پر دباؤ ڈالنا اور  دھمکیاں دینا شروع کر دیا۔  جس نے ٹرن آؤٹ کو  متاثر کیا ۔

مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا، "انشاء اللہ، حماس باہر،" "ہم پیادے نہیں ہیں،" اور "ہم جینا چاہتے ہیں۔" ایک ویڈیو میں، "غزہ کی تباہی بہت ہو چکی"کے نعرے سنے جا سکتے ہیں۔

فوٹیج میں نطر آنے والے مناظر سے یہ  واضح نہیں ہے کہ غزہ میں احتجاج کہاں ہو رہا ہے۔

اس سے پہلے، فیس بک پیج "جون 26 ریوولیوشن" نےغزہ کی  پوری پٹی میں 18 مختلف مقامات پر مظاہروں  کی اپیلیں کی تھیں۔   

گزشتہ سال کے موسم بہار اور موسم گرما میں مظاہروں کی لہر کے بعد یہ غزہ میں حماس مخالف پہلا منظم احتجاج  تھا جس میں لوگوں کی بہت کم تعداد نے شرکت کی اور حماس نے اسے انقلاب کی ناکامی قرار دیا۔ اس احتجاج کی فوٹیج غزہ کے بڑے میڈیا اداروں نے نشر نہیں کی، جو حماس سے وابستہ ہیں۔

اس کے بجائے، یہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، خاص طور پر غزہ کی پٹی سے باہر مقیم صحافیوں اور کارکنوں کی طرف سے ا کو ڈسکس کیا جاتا رہا۔

اس ہفتے کے شروع میں غزہ کے متعدد رہائشیوں نے بتایا کہ حماس نے غزہ میں صحافیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ احتجاج کی کوریج نہ کریں۔

ی ہبھی پڑھیئے:  فلسطین کے مغربی کنارہ میں گاؤں کی مسجد کو آگ لگانے والے یہودی نوجوانوں پر دہشتگردی کی فرد جرم لگ گئی