ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کا دفاتر اتوار کو بھی کھلے رکھنے کا فیصلہ

Jun 26, 2025 | 15:32:PM
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کا دفاتر اتوار کو بھی کھلے رکھنے کا فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ریکوری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا  کہ تمام دفاتر اتوار کو بھی معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

محکمہ ایکسائز کے مطابق تمام فیلڈ دفاتر 29 جون (اتوار) اور 30 جون کی رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے،ریکوری اہداف کی تکمیل کیلئے تمام افسران اور اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ڈی جی ایکسائز پنجاب محمد عمر شیر نے ہدایت کی ہے کہ تمام فیلڈ اسٹاف کی مکمل حاضری یقینی بنائی جائے اور دفاتر کی سرگرمیاں بغیر تعطل جاری رکھی جائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی سہولت کے لیے دفاتر کا کھلا رہنا نہایت اہم ہے تاکہ مقررہ تاریخ سے قبل ٹیکس ریکوری کو مکمل کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: 1000 روپے کا نوٹ سوشل میڈیا پر وائرل، اسٹیٹ بینک نے بھی بیان جاری کردیا

علاوہ ازیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے رواں مالی سال 25-2024 میں ریونیوشارٹ فال میں کمی اور جون کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے اتوار کی چھٹی منسوخ کردی ہے اور 29 جون کو تمام دفاتر کھلے رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔

   ایف بی آر کے ریونیو ڈویژن کی طرف سے تمام لارج ٹیکس آفسز (ایل ٹی اوز)، میڈیم ٹیکس آفسز (ایم ٹی اوز)، کارپوریٹ ٹیکس آفسز (سی ٹی اوز) اور ریجنل ٹیکس آفسز (آر ٹی اوز) کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں،تمام فیلڈ فارمشنز کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ 29 جون 2025 بروز اتوار کو معمول کے مطابق دفتری اوقات میں کام کریں گے اور 30 جون بروز پیر تمام دفاتر رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ ہفتے کی چھٹی پہلے ہی ختم کردی گئی ہے۔

 مراسلے کے مطابق ایف بی آر نے اپنے تمام دفاتر پر زور دیا ہے کہ وہ ایک جامع حکمت عملی اپنائیں جس پر زیادہ سے زیادہ ریونیو کے سلسلے کو فوکس کیا جائے۔

 ایف بی آر کی جانب سے تمام چیف کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ  سٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل بینک کی تمام برانچز کے ساتھ قریبی لائزان قائم کریں تاکہ ٹیکس دہندگان کی طرف سے جمع کروائے جانے والی ٹیکس واجبات کو اسی روز اسٹیٹ بینک کی متعلقہ برانچ اور قومی خزانے میں منتقلی یقینی بنائی جاسکے۔

 اس کے علاوہ ہدایت کی گئی ہے کہ ٹیکس دہندگان کی طرف سی جمع کروائے جانیوالے ٹیکس ریونیو کا شمار اسی روز کی ریونیو کلیکشن اور 30 جون تک ختم ہونے والے مہینے کی ریونیو کلیکشن میں ہوسکے۔

 ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات میں تاخیر نہ کریں تاکہ قومی خزانے کو درکار وسائل بروقت دستیاب ہو سکیں۔

 واضح رہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں پاکستان کو رواں مالی سال کے لیے اپنے سالانہ ٹیکس ہدف کو 12,970 ارب روپے سے کم کرکے 12,370 ارب روپے کرنے کی اجازت دی تھی اور نظرثانی کے باوجود ایف بی آر کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ رواں  مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران ریونیو شارٹ فال پہلے ہی ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔