تھائی لینڈ کے جنگی طیارے نے کمبوڈیا پر بمباری کی، سرحدی جھڑپ میں شدت، 12 افراد ہلاک
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انٹرنیشنل ڈیسک) تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع ایک مسلح تصادم میں تبدیل ہو گیا ہے،تھائی فضائیہ کے F-16 جنگی طیارے نے کمبوڈییا اہداف پر بمباری کی، یہ اقدام دونوں ممالک کی جانب سے شدید گولہ باری کے بعد اٹھایا گیا جس میں کم از کم 11 شہری اور ایک تھائی فوجی ہلاک ہو گئے۔
جھڑپ کا آغاز صبح کے وقت متنازعہ سرحدی علاقے میں ہوا جو جلد ہی6مقامات تک پھیل گئی،دونوں ممالک نے فائرنگ شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا، تھائی لینڈ نے اپنی فضائی طاقت کو "درست نشانہ بازی" کے لیے استعمال کرنے کا جواز پیش کیا جبکہ کمبوڈیا نے اسے "بلااشتعال اور منصوبہ بند جارحیت" قرار دیا۔
یہ تنازع ایک روز بعد سامنے آیا جب تھائی لینڈ نے اپنا سفیر پنوم پنھ سے واپس بلالیا اور کمبوڈیائی سفیر کو ملک بدر کر دیا،اس اقدام کا پس منظر وہ واقعہ تھا جس میں تھائی لینڈ کا ایک اور سپاہی بارودی سرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوا جس کا الزام تھائی حکام نے حال ہی میں بچھائی گئی کمبوڈیائی بارودی سرنگ پر لگایا، کمبوڈیا نے اس الزام کو "بے بنیاد" قرار دیا۔
تھائی حکام کے مطابق3 صوبوں میں ہونے والے حملوں میں 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں 11 عام شہری اور ایک8سالہ بچہ شامل ہے جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ کمبوڈیائی ہلاکتوں یا نقل مکانی کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیر اعظم پھومتھم ویچایچائی نے کہاہے کہ ہم پرامن حل کے حامی ہیں لیکن ہم پر حملہ کیا گیا،ہمیں اپنے دفاع میں جواب دینا پڑا۔
تھائی وزیر صحت کے مطابق سورن صوبے میں ایک ہسپتال پر بھی گولہ باری کی گئی جسے انہوں نے "جنگی جرم" قرار دیا۔
امریکہ نے فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے،کمبوڈیا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (جس کی صدارت اس وقت پاکستان کے پاس ہے) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھائی جارحیت کو روکنے کے لیے ہنگامی اجلاس بلائے۔
فلپائن، ویتنام اور چین نے فریقین کو تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے جبکہ چین نے ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔
سرحدی تنازع کی تاریخی پس منظر ؛
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 817 کلومیٹر طویل سرحد پر کئی دہائیوں سے تنازع جاری ہے، خاص طور پر 11ویں صدی کے پریاہ ویہیار مندر اور تا موآن تھوم جیسے تاریخی مقامات پر۔ 1962 میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) نے پریاہ ویہیار مندر کو کمبوڈیا کا حصہ قرار دیا تھا مگر 2008 میں جب کمبوڈیا نے اسے یونیسکو عالمی ورثہ قرار دینے کی کوشش کی تو تنازع پھر بھڑک اٹھا۔
تھائی لینڈ نے اب تک 40,000 سے زائد شہریوں کو سرحدی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، عینی شاہدین کے مطابق لوگ بم پروف پناہ گاہوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بچوں اور بزرگوں کو عارضی کیمپس میں خوراک اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک خاتون نے تھائی نشریاتی ادارے TPBS سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندازہ نہیں کتنے گولے برسائے جا رہے ہیں، آوازیں بند نہیں ہو رہیں، بچے خوف سے رو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، صدر میکرون کا اعلان