قومی کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کی انکوائری کیخلاف درخواست خارج

Sep 22, 2026 | 12:16:PM
قومی کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کی انکوائری کیخلاف درخواست خارج
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) انکوائری کے خلاف درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ کرکٹر آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کا سہارا لے کر ریاستی اداروں کی قانونی کارروائی سے نہیں بچ سکتا۔

عدالت نے محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی انکوائری میں شاملِ تفتیش ہونے اور ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انکوائری قانون کے مطابق مکمل کی جائے۔

فیصلے کے مطابق سائبر پیٹرولنگ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر محمد رضوان کے خلاف الیکٹرانک فراڈ کے تحت انکوائری کی جا رہی ہے، عدالت نے قانونی ایجنسی کو پیکا ایکٹ 2016ء کی دفعہ 14 کے تحت کارروائی کی اجازت بھی دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ ریاستی اداروں کی قانونی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ آئی سی سی کوڈ کا بنیادی مقصد پیشہ ورانہ اخلاقیات اور ڈسپلن قائم کرنا ہے، جبکہ کرپشن کی روک تھام کے لیے کھلاڑی قانونی اور تحقیقاتی اداروں سے تعاون کے پابند ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کال اپ نوٹس جاری کرنا معلومات اور حقائق جمع کرنے کا قانونی طریقہ ہے اور کال اپ نوٹس بذاتِ خود کسی جرم کا حتمی الزام نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:مسئلہ فلسطین اوآئی سی اور مسلم امہ کے اجتماعی شعور کیلئے مرکزی حیثیت رکھتاہے:اسحاق ڈار

لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ انکوائری کے دوران محمد رضوان کو ہراساں یا بلاوجہ پریشان نہ کیا جائے اور تمام کارروائی قانون کے مطابق کی جائے۔

عدالت نے مزید  کہا کہ ضبط شدہ اشیاء کی واپسی کے لیے محمد رضوان متعلقہ فورم یا عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت علی ڈوگر عدالت میں پیش ہوئے اور آئی سی سی کے متعلقہ قوانین عدالت کے سامنے پیش کیے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں محمد رضوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کی انکوائری جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔