رضوان کا فون آدھی رات کو تحویل میں کیوں لینا پڑا؟ ہائی کورٹ کا رضوان کو بچانے سے انکار، رضوان نےآئی سی سی سے مدد مانگ لی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) پاکستان کے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث کرکٹر رضوان کو انگلینڈ میں آدھی رات کو اپنا موبائل فون حکام کے حوالے کیوں کرنا پرا، دلچسپ تفصیل سامنے آ گئی۔ آج جمعہ کے روز یہ سامنے ٓایا کہ رضوان اب لاہور ہائی کورٹ کے بعد میڈیا آؤٹ لیٹس میں بھی اپنے تعلقات کو بروئے کار لا رہے ہیں اور اس کے ساتھ یہ سامنے آیا کہ رضوان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ سے بھی مدد مانگ لی ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق رضوان کے قریبی ذرائع نے آج میڈیا آؤٹ لیٹ کے نمائندے کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ رضوان کو اس کے ہوٹل کے کمرے سے ہوٹل کی لابی میں بلوایا گیا ۔ وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک آفیشل اور ایک نامعلوم شخص موجود تھے۔ ہوٹیل کی لابی میں آدھی رات کو ہوئے اس سیشن مین ہی رضوان سے آن لائن جوا کروانے والی بعض بیٹنگ کمپنیوں اور سٹے بازی سے متعلق سوالات کئے گئے اور رضوان کا موبائل فون طلب کیا گیا۔ رضوان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اس وقت صبح ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔
رضوان نے کئی بار موبائل دینے سے انکار کرتے ہوئے پوچھا کہ فون کیوں لیا جا رہا ہے اور الزامات کیا ہیں؟ بار بار اصرار کرنے پر رضوان سے کہا گیا کہ "پاکستان کی خاطر آپ اپنا موبائل دے دیں" جس پر رضوان نے اپنا موبائل فون ان کے ھوالے کر دیا۔
رضوان کے قریبی ذرائع نے میڈیا کے اس نمائندے کو بتایا کہ ابتدا میں رضوان کو یقین تھا کہ اس کا موبائل فون چند گھنٹوں میں واپس کردیا جائے گا۔ دوسرے روز رضوان کو میچ کھلانے کی بجائے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ رضوان نے اپنا موبائل فون واپس لئے بغیر واپس جانے میں پس و پیش کی اور قومی کرکٹ ٹیم کے منیجر سے بار بار اپنے موبائل فون کے متعلق پوچھا لیکن موبائل فون انہین واپس نہین دیا گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ رضوان کا وہ موبائل فون این سی سی آئی اے لاہور پہنچ چکا ہے اور تاحال رضوان کو واپس نہیں کیا گیا۔
رضوان کے قریبی ذرائع نے یہ رپورٹ بنانے والے میڈیا کے نمائندہ کو بتایا کہ رضوان کو تحقیقات کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔
واضح رہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت سکیورٹی یا ٹیم کا منیجر کسی بھی وقت کھلاڑی کا موبائل فون لے سکتا ہے۔ اس میڈیا رپورٹ میں لکھا گیا کہ رضوان کو اعتراض ہے کہ اس سے موبائل فون قبضے میں لینے کی رسید کہاں ہے۔ اگر آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت کارروائی کی گئی تو تحریری مطالبہ کہاں ہے اور اگر آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت کارروائی نہیں کی گئی تو موبائل کس اختیار کے تحت لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیئے: جب ہم شہیدوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں، ایسے وقت کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دھرنے دیں، محسن نقوی
رضوان کے "ذرائع" نے سوال کیا کہ چند گھنٹوں میں فون واپس کرنے کی مبینہ یقین دہانی کے باوجود اسے ملک سے باہر (انگلینڈ سے باہر اور اپنے ملک پاکستان کے اندر) منتقل کرکے ہفتوں تک تحویل میں کیوں رکھا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رضوان کے "ذرائع" نے یہ بھی سوال کیا کہ لندن میں موبائل فون لیتے وقت کیا میٹروپولیٹن پولیس یا برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کو مطلع کیا گیا؟ کیا کسی برطانوی ادارے یا عدالت کی جانب سے وارنٹ، عدالتی درخواست یا قانونی منظوری موجود تھی اور اگر معاملہ کسی انٹرنیشنل میچ میں کرپشن سے متعلق تھا تو آئی سی سی کو کب مطلع کیا گیا؟
رضوان کے ذرائع نے بتایا کہ آئی سی سی کی جانب سےاس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں ہوا جبکہ مسجد جانے سے متعلق سوال پر بھی رضوان جاننا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کس مخصوص دن، وقت، پریکٹس یا میٹنگ کو چھوڑ کر ڈسپلن یا سکیورٹی کی خلاف ورزی کی۔
رضوان کے ذرائع نے یہ بھی شکایت کی کہ اگر جوئے کی ایپلیکیشن/بیٹنگ پلیٹ فارمز سے متعلق سنگین تحقیقات کی جا رہی ہیں تو دو سابق کھلاڑیوں کے لیے اصول یکساں کیوں نہیں ہے۔ رضوان کے ذرائع نے نیوز آؤٹ لیٹ کے نمائندہ کو بتایا کہ وہ تمام سوالات کے تحریری جوابات کے منتظر ہیں جو تاحال پی سی بی، انگلینڈ کرکٹ بورڈ، آئی سی سی یا برطانوی پولیس کی جانب سے موصول نہیں ہوئے۔
آج لاہور ہائی کورٹ میں کیا ہوا؟
یڈیا رپورٹس کے مطابق آج جمعہ 18 ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے رضوان کی پیٹیشن کو اس مرحلے پر انٹرٹین نہیں کیا اور رضوان کے وکیل سے کہا کہ پہلے NCCIA کے نوٹس کا جواب دیں۔ رضوان عدالت سے جو ریلیف چاہتا تھا وہ اسے آج نہیں دیا گیا اور اسے این سی سی آئی اے کی تحقیقات مین لازماً پیش ہونے کے لئے کہا گیا۔
عدالت میں رضوان کا موقف بھی سامنے آیا کہ این سی سی آئی اے کا نوٹس ویگ vague ہے اور آن لائن جوا/ online betting ایسا شیڈولڈ اوفینس نہیں ہوتا جس پر این سی سی آئی اے پیکا کے تحت اس انداز کی انکوائری کر سکے۔ لیکن ہائی کورٹ کی چیف جسٹس نے رضوان کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا اور اسے انکوائری میں پیش ہو کر سوالات کا سامنا کرنے کی ہدایت کی۔
ایک دوسری انکوائری بھی چل رہی ہے؟
یہاں معاملہ مزید الجھتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ ٹؤر کے دوران ڈسپلن اور کنڈکٹ کے بارے میں اپنی انٹرنل ڈسپلنری انکوائری شروع کی تھی۔ اسی دوران ڈریسنگ روم انفارمیشن لیک کی بات میڈیا میں سامنے آئی۔
این سی سی آئی اے کی انکوائری کو رضوان سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں نے پہلے یہ رنگ دینے کی کوشش کی تھی کہ یہ ڈریسنگ روم کی باتیں ڈریسنگ روم سے باہر (میدیا کے لوگوں کو) لیک کرنے کا کوئی معاملہ ہے۔ اب تک پاکستان کرکٹ بورڈ رضوان کے متعلق کسی بھی انکوائری کے ضمن میں بظاہر خاموش ہے۔ حتیٰ کہ این سی سی آئی اے کے سوالنامہ، اب تک کی تحقیقات، فون کے فورنزک اور لاہور ہائی کورٹ میں چل رہی سماعتوں کے ضمن میں بھی پی سی بی کے حکام اور ذرائع مکمل خاموش ہیں۔
میڈیا رپورٹس کی حد تک اس وقت کم از کم دو رجحان آپس میں جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں: ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزیاں اور این سی سی آئی اے کی جوئے کے ساتھ تعلق کے متعلق تحقیقات۔
یہ ابھی واضح نہیں ہوا کہ دونوں مکمل طور پر ایک ہی انکوائری ہیں یا الگ انویسٹی گیشن ٹریک/ شکایات ہیں۔
تو “کیا مواد سامنے آ چکا ہے؟”
رضوان کے معاملہ میں بہت کچھ پس پردہ ہے لیکن کچھ بہت اہم میٹیریل سامنے آ چکا ہے، مگر مجرم ٹھہرانے والی حتمی فائینڈنگ/ incriminating finding ابھی کم از کم پبلک ڈومین میں نہیں لائی گئی۔
اب تک پبلک ڈومین میں بنیادی طور پر یہ چیزیں آئی ہیں:
8 ستمبر کا این سی سی آئی اے کا نوٹس۔
10 ستمبر کی رضوان/امام کی پیشی اور سوالات کا سامنا کرنا۔
فون کے فورنزک کا معاملہ صرف اس قدر سامنے ہے کہ فورنزک ہوا ہے۔ اس کے نتائج کسی کو نہیں معلوم۔
جب رضوان نے این سی سی آئی اے کے دوسری بار طلب کئے جانے پر وہاں جانے سے بچنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ مین پیٹیشن دائر کی تو وہاں این سی سی آئی اے کے پانچ صفحات کے بہت مفصل سوالنامے کا انکشاف ہوا۔ اس سے ہی پتہ چلا کہ تحقیقات اصل مین جوئے سے تعلق اور ممکنہ طور پر غیر قانونی آمدن کے متعلق ہیں اور یہ صرف پی سی بی کا ڈسپلن توڑنے کا معمولی معاملہ نہیں ہے۔
رضوان کا ہائی کورٹ میں تحریری جواب بھی سامنے آیا ہے اور این سی سی آئی اے کے وکیل اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا مؤقف بھی سامنے آ چکا ہے۔
اور لاہور ہائیکورٹ ک یچیف جسٹس کی رائے بھی سامنے آ چکی ہے کہ رضوان کو انکوائری میں بہرحال پیش ہونا ہے۔
مگر ابھی تک کوئی ایسی فائنڈنگ سامنے نہیں آئی کہ رضوان نے کرکٹ جوئے کے کسی گیمبلنگ آپریشن gambling operation سے رقم لی، میچ فکسنگ match-fixing کی، یا ایسا کوئی دوسرا جرم کیا ہے۔
رضوان نے آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کو انوالو کر لیا
اور آج ایک نئی ڈیویلپمنٹ یہ بھی ہوئی ہے: رضوان نے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو خود اس معاملہ میں انوالو کر لیا ہے۔ آج ی ہسامنے آیا کہ رضوان نے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو لکھا ہے کہ اسے پروسیجرل گائیڈ لائنز سے آگاہ کیا جائے۔
رضوان نے اپنے وکیل کے مشورہ سے یہ سوال آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے رکھا ہے کہ اس کے فون کو انگلینڈ سے پاکستان بھیجے جانے کے متعلق اینٹی کرپشن یونٹ کی کیا رائے ہے۔
رضوان نے اپنی اس شکایت کو کمپلینٹ نہیں بلکہ "رہنمائی کی درخواست" قرار دیا ہے لیکن بھارت کی مکمل بالادستی میں جکڑی ہوئی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں پاکستان کے ادارہ این سی سی آئی اے کے متعلق راہنمائی مانگ کر رضوان نے کئی اور سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔