انگلینڈ میں سیاسی پناہ والوں کو ہوٹلوں سے نکال کر فوجی بیرکوں میں رکھنےکاآغاز

Jan 22, 2026 | 22:45:PM
 انگلینڈ میں سیاسی پناہ والوں کو ہوٹلوں سے نکال کر فوجی بیرکوں میں رکھنےکاآغاز
کیپشن:  انگلینڈ جا کر سیاسی پناہ مانگنے والے پہلے سرکاری خرچ سے ہوٹلوں میں رہتے تھے اب وہ فوج کی متروکہ بیرکوں میں رہیں گے،برٹش  وزیر داخلہ کہہ رہی ہیں کہ ان سب کو بیرکوں میں لائیں گی۔  
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) انگلینڈ کی حکومت نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والوں کو ہوٹلوں کی بجائے فوج کی چھوڑی ہوئی بیرکوں میں رکھنا شروع کر دیا۔

 انگلینڈ میں سیاسی پناہ  کی درخواستیں دے کر وہاں سرکاری خرچ سے ہوٹلوں میں رہنے والوں کی عیاشی اب تمام ہو گئی ہے، ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے سوا دو درجن سیاسی پناہ گزنیوں کو ہوٹلوں سے نکال کر فوج کی چھوڑی ہوئی بیرکوں میں ٹھہرا دیا ہے۔ اب وہ یہیں رہیں گے۔

انگلینڈ میں شہریوں کی بہت بڑی تعداد اپنی ٹیکس منی سیاسی پناہ کے کیس دائر کر کے ہوٹلوں میں رہنے اور مفت کی روٹی کھانے والوں پر خرچ کرنے کا سلسلہ بند کرنے اور ان لوگوں  کو ہوٹلوں سے نکال کر کیمپوں میں رکھنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔

 لندن  میں برٹش میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 27 سیاسی پناہ گزین ایسٹ سسیکس میں منتقل کیے گئے ہیں۔ ہوم آفس نے اس کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ایسٹ سسیکس کے کرو برا ٹریننگ کیمپ میں 500 سیاسی پناہ مانگنے والوں کو رکھا جائے گا۔ 

ہوم سیکریٹری شبانہ محمود کے مطابق یہ اقدام مہنگے ہوٹلوں میں پناہ گزینوں کی رہائش ختم کرنے کا حصہ ہے۔   

میڈیا رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کی سابقہ فوجی بیرکوں میں منتقلی کے حکومتی فیصلے کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ 

حکومت  کو یقین ہے کہ پر آسائش ہوٹلوں کی بجائے کرو برا  کی بیرکوں جیسے مقامات پر رکھے جانے سے برطانیہ کو پرکشش مقام سمجھ کر  یہاں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے کے لئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  سانحہ فوکوشیما: جاپان نے 15 سال بعد دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پلانٹ دوبارہ فعال کردیا 

شبانہ محمود نے کہا کہ سیاسی پناہ گزینوں کا ہر ہوٹل بند کرنے تک وہ  ایسے مقامات متعارف کرواتی رہیں گی۔ 

برٹش ہوم منسڑی کے مطابق "سیاسی پناہ گزینوں" کیلئے 400 سے زائد ہوٹلوں پر یومیہ 9 ملین پاؤنڈ خرچ ہو رہے تھے.  گزشتہ حکومت کے دور میں سیاسی پناہ گزینوں کیلئے 400 سے زائد ہوٹل کھولے گئے تھے۔  یہ معاملہ تب بھی مالی اعتبار سے بھاری بوجھ کا باعث تھا لیکن اب اس کے خلاف عوامی احتجاج بہت بڑھ گیا ہے۔

ہوم آفس کے مطابق اس وقت بھی  200 سے کم ہوٹلوں میں "سیاسی پناہ گزین" سرکاری خرچ سے مقیم ہیں۔ کچھ لوگوں کے بیرکوں مین منتقل ہونے سے مجموعی اخرجات ابھی صرف  15فیصد کم ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :  لاہور میں بارش موسم سرد ہو گیا،محکمہ موسمیات کی مزید بارش کی پیشگوئی

یہ بھی پڑھیں : مری اور گردونواح میں برفباری جاری، سردی کی شدت بڑھ گئی