سانحہ فوکوشیما: جاپان نے 15 سال بعد دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی پلانٹ دوبارہ فعال کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) جاپان نے 11 مارچ 2011 کے زلزلے اور سونامی کے باعث تباہ ہونے والے فوکوشیما نیوکلئیر بجلی گھر کے ساتھ بند کئے گئے نیوکلئیر بجلی گھر کو بحال کر لیا۔
11 مارچ، 2011 کو، جاپان میں 9.1 شدت کا شدید زلزلہ آیا تھا ، جو ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ طاقتور زلزلہ تھا۔ اس زلزلے نےبہت بڑے سونامی اور اس کے نتیجے میں ایٹمی تباہی کو جنم دی۔ یہ زلزلہ جاپانی قوم کے لئے تین رُخا سانحہ "ٹرپل سانحہ" پیدا کرنے کا سبب بنا۔ زلزلے کے بعد سونامی سے ہزاروں افراد جاں بحق ہو گئے تھے اور اسی دوران فوکوشیما کا نیوکلئیر پلانٹ ناکارہ ہو گیا تھا اور اس پلانٹ سے تھوڑی تابکاری بھی خارج ہوئی تھی۔ اس نیوکلئیر پلانٹ کے حادثہ کے بعد کمپنی نے اپنا دوسرا پلانٹ کاشیوازاکی-کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ بھی بند کر دیا تھا۔
Kashiwazaki-Kariwa اور Fukushima Daiichi دو الگ الگ نیوکلئیر پلانٹ ہیں، لیکن یہ دونوں ایک ہی کمپنی، ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (TEPCO) کی ملکیت ہیں۔ کمپنی نے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے اپنا حادثہ سے محفوظ پلانٹ بھی بند کر دیا تھا۔
اب گزشتہ روز جاپان نے فوکوشیما ایٹمی حادثے کے تقریباً 15 برس بعد دنیا کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر کاشیوازاکی-کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔
جاپانی کمپنی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے مطابق پلانٹ کے ایک ری ایکٹر نے بدھ کی شام باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا۔
ٹیپکو کے ترجمان نے بتایا کہ نیگاتا صوبے میں واقع پلانٹ کا یونٹ نمبر 6 شام 7 بج کر 2 منٹ پر سٹارٹ کیا گیا۔ اگرچہ صوبائی گورنر نے گزشتہ ماہ پلانٹ کی بحالی کی منظوری دے دی تھی، تاہم مقامی آبادی میں اس پلانت کی بحالی کے فیصلے پرتحفظات پائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مری اور گردونواح میں برفباری جاری، سردی کی شدت بڑھ گئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز درجنوں افراد نے شدید سردی اور برفباری کے باوجود پلانٹ کے سٹارٹ ہونے سے پہلے اس کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹوکیو کے لیے بجلی پیدا کرنے کے لیے مقامی آبادی کو خطرے میں ڈالنا ناانصافی ہے۔
ستمبر میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد مقامی باشندے پلانٹ کی بحالی کے مخالف تھے جبکہ 37 فیصد اس کے حق میں تھے۔ ٹیپکو کا کہنا ہے کہ پلانٹ میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جن میں 15 میٹر اونچی سونامی بچاؤ دیوار کی تعمیر، جدید ایمرجنسی پاور سسٹمز اور اضافی حفاظتی اپ گریڈز شامل ہیں۔
کاشیوازاکی-کاریوا دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر ہے، تاہم اس وقت اس پلانٹ کے سات میں سے صرف ایک ری ایکٹر فعال کیا گیا ہے۔ یہ پلانٹ 2011 میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ میں شدید حادثہ پیش آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: لاہور میں بارش موسم سرد ہو گیا،محکمہ موسمیات کی مزید بارش کی پیشگوئی
جاپان اب ایٹمی توانائی کی بحالی کے ذریعے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے، کاربن نیوٹرل اہداف حاصل کرنے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیرِاعظم سَنے تاکائچی نے بھی ایٹمی توانائی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
تاہم مقامی افراد اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پلانٹ ایک فعال زلزلہ فالٹ لائن کے قریب واقع ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں انخلا کے منصوبے ناکافی ہیں، جنوری کے آغاز میں تقریباً 40 ہزار افراد کے دستخطوں پر مشتمل درخواست بھی حکام کو جمع کروائی گئی۔
یہ بھی پڑھیئے: ڈیزاسٹر کے خطرات میں کمی سے متعلق اقتصادی تعاون تنظیم وزارتی کانفرنس میں تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی شرکت