کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر خوارجی دہشتگردوں کے حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر خوارجی دہشتگردوں کے حملے کی ابتدائی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تحقیقات سے واقف حکام نے بتایا کہ دہشت گردوں کے پولیس لائنز کی عمارتوں میں داخل ہونے کے بعد مختلف سمتوں میں بکھر گئے تھے۔ ان کو نیوٹرل کرنے کے لئے سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے طویل وقت تک صبر کے ساتھ جدوجہد کی۔
تحقیقات سے واقف حکام نے تصدیق کی کہ پولیس لائنز مسجد پر خود کش حملہ کے لئے آنے والے خوارجی گروہ کے ارکان حملہ آور صرف خودکش حملے تک محدود نہیں تھے بلکہ پولیس لائنز کے اندر داخل ہوکر کمپاؤنڈ میں زیادہ جانی نقصان کرنے کی منصوبہ بنا کر آئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے کئی گھنٹے تک صبر کے ساتھ ان کا گھیراؤ کیا اور ان کو نیوٹرل کر کے دم لیا۔
یہ دہشت گرد اپنے ساتھ دستی بم، سنائپر بندوقیں، دیگر جدیداسلحہ اور بارودی مواد لائے تھے۔ حملے کے دوران پولیس لائنز کے مختلف حصوں میں داخل ہونے کے بعد دہشت گردوں نے فائرنگ بھی کی اور دستی بموں کا بھی استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ اسلام آباد کو ہم سومنات بنائیں گے، جنید اکبر کی پشاور میں تقریر
حملے کا آغاز بارود سے بھری رکشہ نما گاڑی کو پولیس لائنز مسجد کے قریب ٹکرانے سے ہوا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا۔ جب سکیورٹی پر مامور اہلکار خود کش دھماکے سے ہونے والے نقصان کی طرف متوجہ تھے تو کئی دہشت گرد پولیس لائنز کے اندر داخل ہو کر کئی اطراف میں بھاگ گئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی حملے کے ساتھ سات مزید دہشت گرد پولیس لائنز کمپاؤنڈ میں گھسے تھے۔ جن میں کم از کم ایک اسنائپر بھی شامل تھا۔ ان سب کو نیوٹرل کرنا سکیورٹی اہلکاروں کے لئے چیلنج تھا جسے انہوں نے کامیابی سے مکمل کیا۔
پولیس اہلکاروں نے دہشتگردوں کی شدید فائرنگ اور زخمی ہونے کے باوجود مزاحمت جاری رکھی، جس کے باعث حملہ آوروں کو اپنے مذموم منصوبے کے مطابق کسی عمارت پر قبضہ کرنے اور مزید جانی نقصان کرنے کا موقع نہ مل سکا۔
یہ بھی پڑھیئے: آئیں گے ضرور لیکن واپس نہیں جائیں گے، طلال چوہدری کا جنید اکبر کی دھمکی پر جواب
ایک سینئر پولیس افسر نے ایک میدیا آؤٹ لیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ حملے کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال اور فورسز کے بروقت اور ایکیوریٹ رسپانس نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی اور ان کو کم وقت میں واصلِ جہنم کرنے کی مؤثر کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔ فورسز نے صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول میں لیا اور دہشت گردوں کو مزید پھیلنے سے روکا۔
کلیئرنس آپریشن کے دوران پولیس، سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی کی، جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہی۔ آپریشن کے اختتام پر آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
ابتدائی حملے میں 21 افراد، جن میں 15 پولیس اہلکار شامل تھے، شہید ہوئے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
اب ان دہشت گردوں کے سہولت کاروں، حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث دہشتگردوں اور اس گروہ کے ممکنہ مقامی روابط سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔