میڈیکل اینڈڈینٹل کالجوں میں داخلے کیلئےایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کاانعقاد
امتحان میں 1لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار شریک ہیں، دوپہر 1بجے تک جاری رہے گا
Stay tuned with 24 News HD Android App
( بابر شہزاد ترک،زبیر راشد،افشاں رضوان،ارسلان درانی،شکیل سلطان،امدادبزدار ،ارشادقریشی)ملک بھرمیں پی ایم ڈی سی کے تحت میڈیکل اینڈڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لئے ایم ڈی کیٹ انٹری ٹیسٹ شروع ہوگیا۔
پاکستان میں 34 اور ریاض میں ایک امتحانی مرکزقائم کیاگیاہے ،امتحان میں 1لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار شریک ہیں،ایم ڈی کیٹ کا امتحان دوپہر 1بجے تک جاری رہے گا۔
اسلام آباد میں ایم ڈی کیٹ کے 1ہزار245 امیدوار ،لاہور میں 12 ہزار 30 اورکراچی میں مجموعی طور پر 11 ہزار طلبا وطالبات امتحان میں شریک ہیں،کراچی میں این ای ڈی اور ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس امتحانی مراکزبنائے گئے ہیں جبکہ فیصل آباد میں 4 ہزار امیدوار ایم ڈی کیٹ کا امتحان دے رہے ہیں۔
ایم ڈی کیٹ امتحانات 2026 میں راولپنڈی سے 6 ہزار 240 امیدوار حصہ لے رہے ہیں،امتحانی مراکز کے باہر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں،راولپنڈی کی ضلع انتظامیہ کے مطابق بارانی زرعی یونیورسٹی، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اور صدیق پبلک سکول میں مراکز قائم کئے گئے ہیں،امتحانی مراکز میں امیدواروں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا،مناسب انتظار گاہ، پارکنگ اور ٹریفک منیجمنٹ کے انتظامات مکمل کئے گئے ہیں،ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کے دوران بجلی کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز فضائل مدثر کو فوکل پرسن مقرر کیا گیاہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ کا پیپر 180 سوالات پر مشتمل ہو گا،ایم ڈی کیٹ کے سوالات ملک بھر سے منتخب ماہرین نے تیار کیے ہیں،پیپر لیک ہونے کی صورت میں پورے ملک کا امتحان منسوخ ہونے کا خدشہ بھی ختم ہوگیاہے کیونکہ پیپر لیک کی صورت میں پورے ملک کا امتحان منسوخی سے بچانے کیلئے ہر صوبے کو 2 الگ پرچے فراہم کئے گئے ہیں،ایم ڈی کیٹ پیپر میں بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس، انگریزی اور آئی کیو کے سوالات شامل ہوں گے،طلبہ کو صبح 7 بجے تک ایم ڈی کیٹ امتحانی مراکز پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے،3 گھنٹے کا ایم سی کیوز پر مشتمل ٹیسٹ 180 مارکس کا ہو گا،میڈیکل کالجزمیں داخلے کیلئے پاسنگ مارکس 55 فیصداور ڈینٹل کالجز کیلئے 50 فیصد ہوں گے،ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں کوئی نیگیٹیو مارکنگ نہیں ہو گی،ایم ڈی کیٹ ’’آنسر کی‘‘ ٹیسٹ کے بعد اپ لوڈ کی جائے گی،شفافیت کیلئے طلبہ کاربن کاپی کے ساتھ ٹیسٹ کا پرچہ حل کر سکیں گے،تمام امیدواروں کو امتحان کے اختتام تک اپنی نشستوں پر بیٹھنا ہو گا۔
پنجاب میں ٹیسٹ کے انعقاد کی ذمہ داری یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کو تفویض کی گئی ہے جبکہ سندھ میں سکھر آئی بی اے، خیبر پختونخوا میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی ،بلوچستان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ اوراسلام آباد، کشمیر، جی بی کی ذمہ داری شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے سپردکی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی رہائشگاہ پرفضائی حدود کی خلاف ورزی ،پرواز کو واپس موڑ دیا گیا
ریاض (سعودیہ)میں امتحان کی ذمہ داری شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آبادکو تفویض کی گئی ہے،بلوچستان کے طلبہ کیلئے اسلام آباد میں بھی ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ سینٹر قائم کیاگیاہے،بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کا اسلام آباد میں اضافی ٹیسٹ سینٹر قائم کیاگیاہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق اضافی امتحانی مرکز سے بلوچستان ڈومیسائل کے حامل امیدوار مستفید ہوں گے،آزاد کشمیر کے طلبہ کیلئے ایم ڈی کیٹ کا الگ پورٹل قائم کیا گیا ہے، انٹرنیٹ مسائل کے باعث آزاد کشمیر کے طلبہ کو ایم ڈی کیٹ کی ہارڈ کاپی فراہم کی جائے گی، آزاد کشمیر کے طلبہ کیلئے اسلام آباد میں بھی خصوصی امتحانی مرکز قائم کیاگیاہے۔