زمین کروٹ لینے والی ہے، کیا آپ تیار ہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وسیم عظمت) دھرتی ماں ایک بار پھر کروٹ لینے والی ہے اور اس کی یہ کروٹ گرمی کی ستائی روحوں کے لئےخنک موسم کے بتدریج آغاز کی نوید ہو گی۔
ہم زمین کی اس موسمی کروٹ کی بات کر رہے ہیں جو یہ ہر سال مقررہ دن پر لیتی ہے جو ہر سال ایک مختلف دن ہو سکتا ہے۔ زمین کی اس کروٹ کے سبب ، شمالی نصف کرۂ ارض میں گرمی سے خزاں (سردی) کی طرف منتقلی کا آغاز ہوتا ہے؛ بدھ 23 ستمبر 2026 کو زمین یہ “کروٹ” لے گی۔ لاہور اور اسلام آباد کے وقت کے مطابق صبح 5:05 بجے ستمبر ایکوینس September Equinox ہوگا۔
یہ دراصل زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کی گردش کی وجہ سے ہونے والا وہ لمحہ ہے جب سورج خطِ استوا کے اوپر آتا ہے۔ اس کے بعد شمالی نصف کرۂ ارض میں دن بتدریج رات سے چھوٹے ہونے لگتے ہیں، اور جنوبی نصف کرۂ ارض میں اس کے برعکس موسم بہار شروع ہوتا ہے جو بتدریج دسمبر کی آمد تک گرمی کے موسم میں بدل جاتا ہے۔ جب دسمبر میں جنوبی نصف کرہ میں گرمی عروج کی طرف جا رہی ہوتی ہے تو شمالی نصف کرہ میں جہاں پاکستان بھی واقع ہے، سردی اپنے عروج کی طرف جا رہی ہوتی ہے۔
اس سال امریکی نیول آبزرویٹری کے حساب سے equinox کا عالمی وقت 23 ستمبر 00:05 UTC ہے، جو پاکستان میں صبح 5:05 بنتا ہے۔
ہماری روزمرہ زبان میں “زمین 23 ستمبر کو کروٹ لے گی” کہنا درست ہے، مگر سائنسی طور پر ایکیوریٹ فیکٹ یہ ہے کہ یہ کسی ایک پورے دن کا واقعہ نہیں، ایک عین فلکیاتی لمحہ ہے جو بدھ کو صبح پانچ بج کر پانچ منٹ پر آئے گا۔ یہ لمحہ تبدیلی کا آغاز کرے گا جو روزانہ نمایاں ہوتی جائے گی اور کچھ ہفتوں میں ہم یہ بھول چکے ہوں گے کہ ہمین سخت گرمی کے کتنے طویل مہینوں میں اپنے پسینے میں تر بہ تر رہ کر جینے کی جدوجہد کرنا پڑا تھا۔
جن کو سردی کے موسم سے پیار ہے ان کے لئے آنے والا بدھ یقیناً خوشی کا لمحہ لا رہا ہے۔
زمین کی کروٹ؛ اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ موسموں کی تشکیل!
زمین کے محور کے جھکاؤ کا آسان زبان میں کیا معنی ہے۔ یہ کیوں ہوتا ہے؟ اس سے زمین کی ایک سائیڈ سورج کے کس قدر قریب آتی ہے، کس قدر دور ہٹتی ہے؟
“زمین کی کروٹ” اصل میں ایک موسمیاتی مظہر کی دلکش لٹریری مگر غیر سائنسی مختصر تعبیر ہے۔
زمین واقعتاً ہر سال سورج کی طرف ایک طرف جھک کر پھر دوسری طرف نہیں جھکتی۔ اصل بات یہ ہے کہ زمین اپنے محور پر تقریباً 23.4 درجے جھکی ہوئی ہے، اور سورج کے گرد چکر لگاتے ہوئے اسی جھکے ہوئے محور کی سمت تقریباً ایک ہی رہتی ہے۔
آسان زبان میں اسے یوں سمجھیں:
فرض کریں ایک گلوب اپنے محور پر رکھا ہے اور اس کا محور سیدھا کھڑا نہیں بلکہ تقریباً 23.4° ٹیڑھا ہے۔ اب اس گلوب کو ایک لیمپ کے گرد گھمائیں۔ گلوب کا محور خلا میں تقریباً اسی سمت اشارہ کرتا رہے گا، لیکن جب گلوب مدار کے مختلف حصوں میں پہنچے گا تو کبھی اس کا شمالی حصہ لیمپ کی طرف جھکا ہوا ہوگا اور چھ ماہ بعد جنوبی حصہ لیمپ کی طرف جھکا ہوا ہوگا۔
یہی موسموں کی تشکیل کی بنیادی وجہ ہے۔
تو 23.4° جھکاؤ کا مطلب کیا ہے؟
زمین کا محور، یعنی وہ خیالی لکیر جو قطب شمالی سے قطب جنوبی تک جاتی ہے، زمین کے سورج کے گرد مدار کے سیدھے عمودی سے تقریباً 23.4° جھکا ہوا ہے۔
اس جھکاؤ کی وجہ سے:
جون کے آس پاس شمالی نصف کرۂ ارض سورج کی طرف زیادہ جھکا ہوتا ہے۔
دسمبر کے آس پاس جنوبی نصف کرۂ ارض سورج کی طرف زیادہ جھکا ہوتا ہے۔
مارچ اور ستمبر کے equinox کے آس پاس دونوں نصف کرۂ ارض آہستہ آہستہ بدلتے ہوئے نسبتاً برابر حالت میں ہوتے ہیں۔
اب اس بہت دلچسپ سوال پر: کیا ایک سائیڈ سورج کے قریب بھی آتی ہے؟
ہاں، مگر یہاں ایک اہم غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔

جب ہم کہتے ہیں کہ جون میں شمالی نصف کرۂ ارض سورج کی طرف جھکا ہوا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا شمالی نصف کرۂ ارض سورج کے بہت قریب چلا گیا اور جنوبی نصف کرۂ ارض بہت دور ہو گیا۔
سورج سے زمین کا اوسط فاصلہ تقریباً 149.6 ملین کلومیٹر ہے، اور ایک ہی لمحے میں زمین کے شمالی اور جنوبی حصے سورج سے صرف زمین کے اپنے قطر/نصف قطر کی مقدار میں مختلف فاصلے پر ہوتے ہیں۔ زمین کا نصف قطر تقریباً چھ ہزار تین سو اکہتر 6,371 کلومیٹر ہے۔
یعنی زمین کی سطح کے ایک مقام اور دوسرے مقام کے درمیان سورج سے زیادہ سے زیادہ فاصلے کا فرق ہزاروں کلومیٹر ہو سکتا ہے، مگر زمین اور سورج کے تقریباً 150 ملین کلومیٹر کے فاصلے کے مقابلے میں یہ بہت معمولی ہے۔
موسم اس معمولی فاصلے کے فرق سے نہیں بنتے۔
پھر جون میں گرمی کیوں بڑھتی ہے؟
اصل کمال روشنی کے زاویے میں ہے۔
جب شمالی نصف کرۂ ارض سورج کی طرف جھکا ہوتا ہے، تو سورج کی شعاعیں وہاں زیادہ عمودی زاویے سے پڑتی ہیں۔ ایک ہی مقدار کی شمسی توانائی نسبتاً چھوٹے رقبے پر مرکوز ہوتی ہے۔
اور دن بھی لمبے ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس جنوبی نصف کرۂ ارض میں اسی وقت سورج کی شعاعیں زیادہ تر ترچھے زاویے سے پڑتی ہیں، ایک ہی توانائی بڑے رقبے میں پھیلتی ہے، اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔
اسی لیے جون میں پاکستان میں گرمی اور آسٹریلیا میں سردی ہوتی ہے۔
ستمبر کی “کروٹ” کیا ہے؟
یہاں ہم اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔
بدھ کے روز صبح سویرے ہونے والے ستمبر ایکوینوکس September Equinox لمحہ میں زمین ایسی position میں آتی ہے کہ نہ شمالی نصف کرۂ ارض سورج کی طرف نمایاں طور پر جھکا ہوتا ہے، نہ جنوبی۔
سورج تقریباً خطِ استوا کے عین اوپر ہوتا ہے۔
اسی لیے دن اور رات تقریباً برابر ہوتے ہیں۔ لیکن یہ طلسماتی برابری بس لمحے بھر کے لئے ہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہمارے والے نصف کرہ میں سورج کی شعائیں ترچھی ہونے لگتی ہیں اور گرمی کی جگہ سردی لینے لگتی ہے۔ تئیس ستمبر کو خزاں کا پہلا دن بھی کہا جاتا ہے۔
جب زمین آگے بڑھتی ہے اور شمالی نصف کرۂ ارض سورج سے نسبتاً دور رخ اختیار کرنے لگتا ہے تو شمال میں خزاں آتی ہے، دن روزانہ تقریباً دو منٹ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں، اور بالآخر دسمبر میں جنوبی نصف کرۂ ارض سورج کی طرف زیادہ جھک جاتا ہے۔

تو روزمرہ زبان میں “زمین نے کروٹ لے لی” کا زیادہ درست سائنسی ترجمہ ہوگا:
“زمین اپنے مدار میں اس مقام پر پہنچ گئی جہاں اس کے محوری جھکاؤ کی وجہ سے شمالی اور جنوبی نصف کرۂ ارض پر سورج کی روشنی کا زاویہ تبدیل ہو گیا۔”
زمین کا محور جھکا ہی کیوں ہوا؟
یہ سوال اور بھی شاندار ہے۔ اس کا جواب حتمی نہیں بلکہ ہمارا ایک سٹرونگ بنیاد پر مرتب دیا ہوا مفروضہ ہے؛ زمین جب تقریباً 4.5 ارب سال پہلے بنی تو نظامِ شمسی کے ابتدائی دور میں بہت سے بڑے اجسام ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے۔ موجودہ سائنسی ماڈل کے مطابق زمین کے محوری جھکاؤ کی تشکیل میں قدیم بڑے تصادم، خصوصاً Moon-forming impact کا بڑا کردار ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد زمین کا محور خلا میں ایک خاص سمت قائم رکھتا رہا۔ چاند بھی اس جھکاؤ کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
یعنی ہمیں موسم اس لیے مل رہے ہیں کہ زمین کا محور اتفاقاً سیدھا نہیں بلکہ جھکا ہوا ہے۔
ایک نہایت خوبصورت فرق
زمین سورج سے سب سے قریب تقریباً جنوری کے شروع میں ہوتی ہے، اور سب سے دور تقریباً جولائی کے شروع میں۔
یعنی شمالی نصف کرۂ ارض میں جب ہماری سردی ہوتی ہے، زمین دراصل سورج کے قدرے قریب ہوتی ہے۔
اور جب شمالی نصف کرۂ ارض میں گرمی ہوتی ہے، زمین سورج سے قدرے دور ہوتی ہے۔
یہ اس بات کا شاندار ثبوت ہے کہ موسموں کی اصل وجہ سورج سے قربت نہیں، بلکہ زمین کا محوری جھکاؤ ہے۔
یوں ہماری روزمرہ زبان کا “زمین نے کروٹ لی” دراصل زمین کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کی گردش کے ملاپ کا نام ہے۔ ????☀️
ایک سطری ذہنی تصویر رکھیں:
زمین جھکی ہوئی ہے؛ جھکاؤ تقریباً وہی رہتا ہے؛ مگر زمین سورج کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ اس لیے کبھی شمال کو زیادہ سورج ملتا ہے، کبھی جنوب کو۔ یہی موسم ہیں۔